’جارحانہ‘ پالیسی جاری رہے گی: پاول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیِر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ امریکہ ’جارحانہ‘ خارجہ پالیسی جاری رکھے گا۔ برطانوی اخبار ’فائنانشیل ٹائمز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا صدر جارج بش دوسری مرتبہ منتخب ہونے کے بعد اپنی خارجہ پالیسیاں نہ تو بدلیں گے اور نہ ہی ختم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ان کے اصولوں، پالیسیوں اور ان کے خیالات کی ایک کڑی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ صدر بش کو اس بات کا مینڈیٹ دیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کے قومی مفاد میں رہنے والی خارجہ پالیسی جاری رکھیں۔ وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ پالیسی روایتی طور پر اس لیے جارحانہ ہے کہ اس میں چیلنج اور مسائل کے پیچھے جانا پڑتا ہے اور صدر ’اسی سمت ہی چلتے رہیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ صدر بش کثیر ملکی مشاورت کا راستہ اپنائیں گے لیکن جہاں ضرورت پڑی امریکہ انفرادی طور پر عمل کرے گا۔ تاہم کولن پاول نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے مسائل جیسا کہ ایڈز اور مشرقِ وسطیٰ کے امن منصوبے پر بھی جارحانہ پالیسی جاری رہے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||