فلوجہ پر بمباری کی ایک اور رات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی افواج نے فلوجہ شہر پر اتوار کی رات پھر بمباری شروع کی ہے۔ اسی طرح کی شدید بمباری گزشتہ رات بھی کی گئی تھی اور اسے فلوجہ پر کیے جانے والے ایک اور بڑے حملے کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔ فلوجہ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق پہلے مسلسل کئی بڑے دھماکے ہوئے جس کے بعد شہر کی طرف سے چھوٹے آتشیں ہتھیاروں کے استعمال کی آوازیں سنی گئیں جس سے ظاہر ہوتا تھا کے مزاحمت کار جوابی کارروائی کر رہے ہوں۔ ایک اطلاع میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے فلوجہ کے ایک ایسے چھوٹے سے حصے پر بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے جو اس سے پہلے مزاحمت کاروں کے کنٹرول میں تھا۔ تاہم امریکی فوج نے اس بارے میں تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔ عراق میں ہنگامی حالات نافذ کیے جانے کے بعد امریکی افواج نے فلوجہ کا رابطہ عراق کے دوسرے حصوں سے مکمل طور پر کاٹ دیا ہے اور کسی بھی طرح کے ٹریفک کو شہر سے نکلنے اور شہر کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہے۔ دو روز میں ستر سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد عراق کی عبوری حکومت نے اتوار کو عراق کے بیشتر علاقوں میں ساٹھ دن کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر چکی ہے۔ وزیر اعظم ایاد علاوی نے کہا کہ ہنگامی حالت نفاذ سے واضح ہو جائے گا کہ ان کی حکومت آئندہ جنوری میں انتخابات کرانے کے لیے سنجیدہ ہے اور انتخابات سے قبل عراق میں استحکام بحال کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||