BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 November, 2004, 02:22 GMT 07:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سمارا: دھماکوں کی ذمہ داری قبول
News image
یہ کار بم حملے یکے بعد دیگرے کیے گئے ہیں
الزرقاوی گروپ نے سنیچر کو سمارا، بغداد اور رمادی میں ہونے والے کار بم حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں عام خیال یہ ہے کہ ان حملوں کا مقصد بغداد کے مغرب میں واقع سُنی آبادی والے شہر فلوجہ سے دباؤ کم کرنا ہے جہاں امریکی اور عراق فوج بڑی تعداد میں اکٹھی ہوئی ہے اور ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

بغداد کے شمال میں واقع شہر سمارا سنیچر کے روز چار کار بم حملے ہوئے تھے جن میں 43 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دس پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

پولیس کے کہنا ہے ایک دھماکہ میئر کے دفتر کے باہر ہوا، جبکہ دوسرا دھماکہ عراقی نیشنل گارڈز کی قائم کردہ ایک چوکی کے پاس ہوا۔ امریکی فوج کے ایک قافلے پر بھی حملہ کیا گیا۔بظاہر ان حملوں کی پیشگی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور ان میں عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔

دوسری طرف فلوجہ کے اندر سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ مزاحمت کاروں، قبائلی رہنماؤں اور سنی علماء نے مشترکہ طور پر ذرائع ابلاغ کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کی حفاظت میں شہر میں داخل ہوکر ممکنہ امریکی اور عراقی فوج کا حملہ دیکھیں۔ مشترکہ دعوت نامے میں امریکی اور عراقی فوج کے فلوجہ پر حملے کو اسلام کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے۔

عراقی حکومت اب سے پہلے تک یہ کہہ کر سمارا کی مثال دیتی رہی ہے کہ یہاں پر باغیوں کو بہت اچھی طرح سے کنٹرول کیا گیا ہے۔ اکتوبر کے اوائل میں امریکی اور عراقی فوج نے اس شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

مزاحمت کاروں نے سمار میں اکثر عراقی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ لوگ امریکیوں کی امداد کر رہے ہیں۔

سمارا شہر بغداد سے پچانوے کلومیٹر دور ہے اور اس کی آبادی دو لاکھ ہے۔ یہاں بھی امریکی سالاری میں عراق پر حملہ کرنے والی فوج کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں۔

سمارا میں کار بم حملے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکی افواج فلوجہ شہر پر ایک بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد