BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 November, 2004, 19:17 GMT 00:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: ہنگامی حالات، فلوجہ ’منقطع‘
مزاحمت کاروں نے عراقی پولیس کو نشانہ بنایا ہے
مزاحمت کاروں نے عراقی پولیس کو نشانہ بنایا ہے
عراق میں ہنگامی حالات نافذ کیے جانے کے بعد امریکی افواج نے فلوجہ شہر کو ملک کے دیگر علاقوں سے ’منقطع‘ کردیا ہے اور ٹریفک کو شہر میں آنے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

دو روز میں ستر سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد عراق کی عبوری حکومت نے اتوار کے روز عراق کے بیشتر علاقے میں ساٹھ دنوں کے لئے ہنگامی حالات کا اعلان کیا جس کا اطلاق کرد علاقوں میں نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم ایاد علاوی نے کہا کہ ہنگامی حالات نافذ کرنے کے فیصلے سے واضح ہوجائے گا کہ ان کی حکومت آئندہ جنوری میں انتخابات کرانے کے لئے سنجیدہ ہے اور اس سے قبل عراق میں استحکام بحال کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔

تازہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اتوار کی شام امریکی افواج نے فلوجہ شہر پر پھر سے شدید بمباری شروع کی ہے اور فلوجہ میں موجود مزاحمت کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کسی بھی وقت کی جاسکتی ہے۔

عراق میں ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان ایسے دن کیا گیا جب بڑے پیمانے پر تشدد جاری رہا۔ اتوار کو ہی بغداد سے مغرب میں دو سو کلومیٹر پر واقع شہر حدیثہ میں مسلح مزاحمت کاروں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا اور اکیس پولیس والوں کو غیرمسلح کرکے ہلاک کردیا۔

٭ اتوار کے روز ہی حقلانیہ شہر کے قریب مزاحمت کاروں کے ایک حملے میں چھ پولیس والے ہلاک ہوگئے۔

٭ اتوار کو ہی کیمپ ڈاگوُڈ پر ایک خودکش حملے میں چھ برطانوی فوجی زخمی ہوگئے۔

٭ اتوار کو ہی دیالہ صوبے میں تین عراقی اہلکار اس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ اپنے ایک دوست کے جنازے میں شرکت کے لئے جارہے تھے اور مزاحمت کاروں کے حملے کا شکار بنے۔

٭ امریکی فوج نے بتایا کہ مغربی بغداد میں ایک کار بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا اور چار زخمی ہوگئے۔

٭ اتوار کو ہی بغداد میں عراقی وزیر خزانہ عادل عبدالمہدی کے گھر پر ایک کار بم دھماکہ کیا گیا جس میں ان کا ایک محافظ مارا گیا۔ وہ حملے کے وقت گھر پر نہیں تھے۔

نامہ نگاروں کے مطابق سنیچر سے شروع ہونے والے تشدد کی اس لہر کا مقصد فلوجہ پر سے دباؤ کم کرنا ہے جہاں امریکی فوج شہر کے باہر جمع ہے اور اس کی طرف سے ایک بڑے حملے کی توقع کی جا رہی ہے۔

سنیچر کو سمارا شہر میں مختلف حملوں میں تینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئے سات فضائی حملے کیے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد