عراق میں ہنگامی حالت کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں دو روز میں ستّر سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کرد علاقوں پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ عراق میں پولیس کا کہنا ہے کہ حدیثہ میں درجنوں افراد نے ایک تھانے میں گھُس کر اکیس پولیس افسر ہلاک کر دیئے۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں نے مختلف اطراف سے تھانے پر حملہ کیا اور پھر پولیس افسروں کو غیر مسلح کر کے ہلاک کر دیا۔ الانبار صوبے کے ہی شہر الحقلانیہ میں اسی طرح کے حملے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک کر دیئے گئے۔ بغداد کے جنوب میں تین اہلکاروں کو اس وقت ہلاک کر دیا گیا جب وہ اپنے ایک ساتھی کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ نامہ نگاروں کے مطابق سنیچر سے شروع ہونے والی تشدد کی اس لہر کا مقصد فلوجہ پر سے دباؤ کم کرنا ہے جہاں امریکی فوج شہر کے باہر جمع ہے اور اس کی طرف سے ایک بڑے حملے کی توقع کی جا رہی ہے۔ سنیچر کو سمارا شہر میں مختلف حملوں میں تینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے سات فضائی حملے کیے ہیں۔ فلوجہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شہر میں مزاحمت کاروں، قبائلی سرداروں اور علماء نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اپنی حفاظت میں شہر میں داخل ہونے کی پیشکش کی ہے تاکہ وہ متوقع امریکی حملہ کو دیکھ سکیں جسے وہ اسلام کے خلاف جنگ صلیبی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||