فلوجہ: کوفی عنان کی اپیل مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ، برطانیہ اور عراق نے کوفی عنان کی وہ اپیل مسترد کر دی ہے جس میں فلوجہ پر حملے سے باز رہنے کو مشورہ دیا گیا تھا۔ امریکی، برطانوی اور عراقی حکومتوں کو بھیجے گئے ایک خط میں کوفی عنان نے کہا ہے کہ حملہ کرنے کی صورت میں اتحادی فوج عراقی عوام کی حمایت سے محروم ہو جائے گی جو انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری ہے۔ عراقی وزیر اعظم ایاد علاوی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خط کو ’مبہم‘ قرار دیا اور کہا کہ فلوجہ میں قیام امن کےکسی بھی سمجھوتے کے لیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوفی عنان کا خیال ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کو تباہی اور ہلاکتوں سے باز رکھ سکتے ہیں تو ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ مسٹر عنان کی طرف سے لکھے جانے والے خط کے بارے میں انہوں نے کہا ’ ہمیں نہیں معلوم نے وہ کیا چاہتے ہیں۔ ان کا پیغام بے حد مبہم ہے۔ اس سے پہلے موصول ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ امریکی افواج فلوجہ کے مضافات میں پہنچ گئی ہیں اور شہر میں مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر ہوائی جہازوں اور توپوں سے بمباری کی جا رہی ہے۔ امریکی دستوں کے ساتھ موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہم وی جیپوں اور ہلکی بکتر بند گاڑیوں کا ایک قافلہ طلوع آفتاب کے وقت فلوجہ کے قریب امریکی اڈے سے روانہ ہوا تھا۔ فلوجہ کی زیادہ تر آبادی شہر چھوڑ کر جا چکی ہے لیکن پچاس ہزار افراد اب بھی وہاں موجود ہیں۔ اس سے پہلے موصول ہونے والے اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ فلوجہ میں امریکی فوج نے شہر میں آمدورفت کے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے جس سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ فلوجہ پر بڑا حملہ اب کسی وقت بھی متوقع ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی فوجیوں نےسنّی اکثریت والے شہر کے تمام داخلی راستوں کو بند کر دیا ہے۔ امریکی اور عراقی حکام کے مطابق وہ جنوری میں ہونے والے انتخابات سے پہلے باغیوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں۔ عراق کے عبوری وزیرِاعظم ایاد علاوی نے برسلز میں کہا ہے کہ فلوجہ میں پرامن مذاکرات کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم لوگوں کو آزاد کروانے کے ساتھ ساتھ قانون کی عملداری قائم کرنا چاہتے ہیں‘۔ بی بی سی کے نمائندے نے جو فلوجہ کے نواح میں امریکی فوجوں کے ہمراہ موجود ہیں بتایا کہ حملے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں گولہ بارود جمع کیا جا رہا ہے اور تیاریاں زوروں پر ہیں۔
امریکی فوجی کرنل مائیکل شپ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’ ہم آخری تیاریاں کر رہے ہیں۔ حملہ جلد ہی ہو گا اور ہمیں صرف وزیرِاعظم ایاد علاوی کے احکامات کا انتظار ہے‘۔ ایاد علاوی نے بارہا اردنی شدت پسند ابو مصعب الزرقاوی کو فلوجہ سے نہ نکالنے پر شہریوں کو بڑے حملے کی دھمکی دی ہے۔ ابومعصب الزرقاوی کے گروہ پر یرغمالیوں کے قتل اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ امریکی فوجی ترجمان کے مطابق امریکی طیاروں نے فلوجہ میں مزاحمت کارروں کے ٹھکانوں پر پانچ حملے کیے ہیں۔فلوجہ پر فضائی حملے جمعہ کی صبح کو شروع ہوئے جو وقفے وقفے سے جاری رہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ طیاروں نے عراقی مزاحمت کارروں کے اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنایا ہے اور بہت سا اسلحہ تباہ کر دیا ہے۔ امریکی اور عراقی حکام کے مطابق بغداد کے جنوب میں واقع اس شہر میں کئی ہزار جنگجو موجود ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ ان منظم جنگجوؤں کی کمان صدام حسین کی فوج کے سابق افسروں کے ہاتھ میں ہے۔ عراق کی عبوری انتظامیہ کے صدر نے فلوجہ پر ممکنہ امریکی حملے کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ اس سے مسائل بڑھیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||