BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 November, 2004, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مارگریٹ حسن کو رہا کردیں: الزرقاوی
ابو مصائب الزرقاوی
ابو مصائب الزرقاوی نے مارگریٹ حسن کی رہائی کی اپیل کی ہے۔
عراق میں سرگرم القاعدہ کے رہنما ابومصائب الزرقاوی نے مارگریٹ حسن کی رہائی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ عورتوں اور بچوں کو اغوا کرنے والے اسلام کی تعلیمات سے نا بلد ہیں۔

ایک اسلامی ویب سائٹ پر ابومصائب الزرقاوی کا ایک مبینہ بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر مارگریٹ حسن ان کے ہاتھ لگ گئیں تو وہ اس کو رہا کر دیں گے۔

مارگریٹ حسن کے اغوا کار دھمکی دے رہے تھے کہ اگر برطانوی فوجیوں کو عراق سے نہ نکالا گیا تو وہ مارگریٹ حسن کو الزرقوی گروپ کے حوالے کر دیں گے۔

ابومصائب الزرقوی کے مبینہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مارگریٹ حسن کے اغوکارروں کے پاس اگر کوئی ایسی شہادت ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ غیر ملکی ایجنٹ ہیں تو وہ اس کو شائع کریں وگرنہ ان کو رہا کر دیں۔

مارگریٹ حسن تیس سال سے عراق میں قیام پزیر ہیں اور امدادی کاموں میں مصروف رہی ہیں۔ان کےشوہر عراقی شہری ہیں۔ان کے پاس برطانوی اور عراقی شہریت ہے۔

ابو مصائب الزرقاوی کےمبینہ بیان میں کہا گیا ہے جو لوگ عورتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے اغوا کرتے ہیں وہ اسلام کو نہیں سمجھتے ہیں کیونکہ کوئی مسلمان عورتوں اور بچوں کو نہیں مارتا۔

ابومصائب الرزقاوی کے بیان میں کہا گیا کہ جو مسلمانوں کے ساتھ لڑیں گے وہ ان کو مارنے کا حق رکھتے ہیں۔

ابو مصائب الزرقاوی کے مبینہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے کئی آپریشنز اس لیے ختم کردیے کیونکہ ان کو خدشہ تھا کہ اس میں مسلمانوں کا خون بہے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد