فلوجہ پر امریکی طیاروں کی بمباری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی طیاروں نے عراقی شہر فلوجہ پر بمباری کی ہے اور مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ فلوجہ کے رہائشیوں کے مطابق بدھ کی رات کو ہونے والی بمباری گزشتہ کئی ہفتوں میں شہر میں ہونے والی شدید ترین بمباری تھی۔ فلوجہ میں ہسپتال کے ذرائع کے مطابق بمباری کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک نوجوان لڑکی شدید زخمی ہوئی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی فوج شہر کو مزاحمت کاروں سے ’آزاد‘ کرانے کے لیے ایک بڑی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ دوسری طرف مزاحمت کاروں نے تین محافظوں کے سر قلم کر دیئے ہیں۔ الجـزیرہ ٹی وی کے مطابق ’معزز عراقی عوام کی بریگیڈ‘ نامی گروپ نے ان افراد کو امریکی فوجوں کی مدد کرنے کے الزام میں قتل کیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے پولیس کے حوالےسے کہا ہے کہ سر قلم ہونے والےتین افراد کی لاشیں بدھ کو بغداد میں ملی تھیں۔ دوسری طرف ایک دوسرے گروپ ’انصارا لسنہ‘ نے بھی ایک سینئیر عراقی فوجی افسر کا سر قلم کرنے کادعویٰ کیا ہے۔ اپنی ویب سائیٹ پر لگائی جانے والی ایک ویڈیو میں اس گروپ نےمذکورہ افسرکا سر قلم ہوتے دکھایا ہے۔ گروپ کے مطابق انھوں نے حسین شنون نامی اس افسر کو موصل سے اغوا کیا تھا۔ یاد رہے انصارالسنہ اس سے قبل ایک بارہ سالہ نیپالی لڑکے کے علاوہ کئی دوسرے مغویوں کی موت کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد کی اس نئی لہر کے دوران منگل کو بغداد میں ایک لبنانی ٹھیکیدار کو بھی اس کے گھر سے اغوا کر لیا گیا ہے۔ عراقی وزارتِ داخلہ نے مغوی کا نام رادم صادق بتایا ہے۔ بغداد شہر کے متمول علاقے، منصور ڈسٹرکٹ، میں اس ہفتے کے دوران یہ اغوا کی دوسری واردات ہے۔اس سے پہلے ایک فلپائینی، ایک نیپالی اور ایک امریکی شہری کے علاوہ تین عراقی محافظ پیر کے دن اغوا کر لیے گئے تھے۔
تشدد کی اس نئی لہر کے دوران بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب ایک امریکی قافلے کو بھی کار بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعہ میں کئی عراقی زخمی ہوئے۔ ایک دوسرے واقعہ میں چار اردنی ٹرک ڈرائیوروں کو بغداد کے مغرب میں واقع رمادی کے مقام سے اغوا کر لیا گیا۔ دریں اثنا ماگریٹ حسن کے اغوا کاروں نے منگل کو ریلیز کی جانے والی اپنی ویڈیو میں دھمکی دی ہے کہ اگربرطانوی فوجیں اڑتالیس گھنٹے کے اندر عراق سے نہ نکلیں تو وہ مارگریٹ حسن کو ابو مصعب الزرقاوی نامی گروپ کے حوالے کر دیں گے۔ عراق میں امریکی فوجی کاروائیاں جاری ہیں۔تازہ ترین کاروائی میں فلوجہ پر دو ہوائی حملے کیے گئے جن کے دوران عراقی مذاحمت کاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||