بغداد دھماکے، اٹھارہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد میں اتوار کے روز ہونے والے دو خودکش دھماکوں میں ایک امریکی فوجی سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ بغداد میں وزارت ِپٹرولیم اور ایک پولیس اسٹیشن کے پاس پہلے خود کش حملے میں کم از کم سترہ افراد کے ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ اس سے وزارت ِپٹرولیم کے قریب سڑک پر ایک بہت بڑا گڑہا بن گیا۔ شہر کے اس علاقے میں پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ بغداد میں وزارت پٹرولیم کے ترجان کا کہنا ہے کہ بم وقت سے پہلے پھٹ گیا جس کی وجہ سے مرنے والوں میں زیادہ تر راہگیر تھے۔ ترجمان عاصم جہاد کے مطابق کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد سترہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد دس بتائی گئی تھی۔ جبکہ ایک دوسرے پولیس افسر نے ہلاکتوں کی تعداد گیارہ بتائی۔ ہلاک ہونے والوں میں سات عورتیں بھی شامل ہیں۔ ایک پولیس افسر نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ مرنے والوں میں وہ پولیس اہلکار بھی شامل تھےجن کی ابھی تقرری ہوئی تھی۔ ایک اورخود کش دھماکہ بغداد میں وزارت ثقافت کے دفتر کے سامنے ہوا اس وقت ہوا جب کچھ راہگیر گزر رہے تھے۔ اس دھماکے میں زخمی ہونے والا ایک امریکی فوجی ہسپتال میں دم توڑ دیا۔
اتوار کے روز ہونے والے یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے جب امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ عراق صوبہ الانبار میں امریکی فوجیوں سے ملنے کے لیے پہنچے ہیں۔ رمزفیلڈ نے کہا کہ امریکہ عراق میں الیکشن ہونے تک اپنے فوجی دستوں میں کمی نہیں کرے گا جو کہ آئندہ جنوری میں منعقد ہونے والے ہیں۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ ہفتے کے روز ان ملکوں کے وزراء دفاع سے ملے جن کی فوجیں عراق میں تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لئے امریکہ شاید مزید فوجیں بھیج سکتا ہے۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ نے الاسد فضائی اڈے میں امریکی کمانڈروں کے ساتھ ناشتہ کیا اور پندرہ سو امریکی فوجیوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے ساتھی عراقی مزاحمت کاروں کے ساتھ ایک جنگ لڑ رہے ہیں اور مزاحمت کار جانتے ہیں کہ وہ ’ہماری فوج کو نہیں ہرا سکتے اس لۓ وہ ہمارے ارادوں کو شکشت دینا چاہتے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||