عراق:سینئر امدادی کارکن اغوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الجزیرہ ٹی وی چینل پر ایک ویڈیو میں سینئر امدادی کارکن مارگریٹ حسن کو دکھایا گیا ہے جنہیں بغداد میں اغوا کیا گیا ہے۔ امدادی کارکن کے اغوا کے بعد اس ادارے نے جس میں مارگریٹ کام کرتی ہیں، اپنے تمام آپریشنز معطل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ مارگریٹ حسن کے پاس برطانوی اور عراقی دونوں شہریت ہیں کیونکہ ان کی شادی ایک عراقی سے ہوئی تھی۔ وہ تیس سال سے عراق میں ہیں اور انہیں اس وقت ایک نامعلوم گروپ نے اغوا کیا جب وہ اپنے کام پر جا رہی تھیں ۔ وزیر آعظم ٹونی بلیئر نے ان کے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ حسن برسوں سے عراقیوں کی مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کس طرح کے لوگوں کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔جو مارگریٹ حسن جیسے لوگوں کو بھی اغوا کر سکتے ہیں۔ مارگریٹ حسن ڈبلن میں پیدا ہوئی تھیں اور کیئر انٹرنیشنل کی سربراہ تھیں ۔ انہیں منگل کے دن مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے ساتھ بجے اغوا کیا گیا۔ویڈیو میں وہ پریشان دکھائی دے رہی تھیں اور ان کے ہاتھ کمر کے پیچھے باندھے گئے تھے۔ کئیرانٹر نیشنل دنیا بھر میں امدادی اور ترقیاتی کام کرنے والے بڑے اداروں میں سے ایک ہے ۔ یہ ادارہ ایشیا ، افریقہ ، مشرق وسطی ، امریکہ اور مشرقی یورپ کے 70 سے زائد ملکوں میں کام کر رہا ہے ۔ برطانیہ میں کیئر انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکیوٹیو جیفری ڈینس نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ انہیں کیوں اغوا کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم مارگریٹ حسن کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ آئرلینڈ کے محکمہ خارجہ نے بتایا کہ وہ برطانوی وزارت خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے ۔ بغداد میں بی بی سی نامہ نگار کلیئر مارشل نے بتایا کہ اس تازہ واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح اغوا کار پر اعتماد ہوتے جا رہے ہیں۔
اب اغوا کار لوگوں کو ان کے گھروں اور دفتروں کے راستوں میں ہی اغوا کرنے لگے ہیں۔ اغوا کا یہ تازہ واقعہ برطانوی شہری کین بگلی کے قتل کے دو ہفتوں کے بعد ہوا ہے۔ اغوا کے واقعات اب عراق میں معمول بنتے جارہے ہیں اغوا ہونے والوں میں زیادہ تر عراقی ہی ہوتے ہیں جنہیں تاوان کی رقم لے کر اکثر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||