’اغواکارروں سے بات نہیں ہوگی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عربی ٹیلی ویژن سٹیشن الجزیرہ پر عراق میں اغوا کیے گئے برطانوی انجنئیر کینتھ بگلی کے بارے میں نئی وڈیو فلم نشر ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ اگر اغوا کارروں نے رابطہ کیا تو وہ فوراً جواب دیں گے ۔ برطانوی حکومت نے البتہ اس بات کی وضاحت کی کہ اغواکارروں کے ساتھ رابطہ کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہو گا کہ برطانوی حکومت اغواکاررؤں کے ساتھ کسی سودے بازی کے لیے تیار ہے۔ اس نئی وڈیو میں کینتھ بگلی کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے ایک چھوٹی سی جگہ میں بٹھائے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔ کینتھ بگلی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ٹونی بلئیر جھوٹ بول رہے ہیں کہ انہوں نے اس کی رہائی کے لیے کوئی کوشش کی ہے۔ کینتھ بگلی کو اغوا کارروں نے اس کو نارنجی رنگ کے کپڑے پہنا رکھے تھے جیسے کہ گوانتانوموبے میں امریکہ کے قیدیوں کو پہنائے جاتے ہیں۔ برطانوی شخص کینتھ بگلی نے کہا کہ اس کے اغوا کار اس کو مارنا نہیں چاہتے اور اگر ان کو اسے مارنے سے دلچسپی ہوتی تو دو ہفتے پہلے ایسا کر سکتے تھے۔ وہ صرف قید میں چند ’بہنوں‘ کو رہا کرانا چاہتے ہیں۔ وڈیو کے جاری ہونے کے بعد ٹونی بلئیر نے کہا کہ برطانوی حکومت کینتھ بگلی کے اغوا کارروں سے ابھی تک رابطہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے لیکن حکومت ان کی رہائی کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ کینتھ بگلی کو دو ہفتے پہلے دو امریکیوں کے بغداد کے مرکزی علاقے سے اغوا کیا گیا تھا ۔ اغوا کار دونوں امریکی شہریوں ہلاک کر چکے ہیں۔ دریں اثناء عراق ہی سے رہا کئے گئے اطالوی اور مصری مغویوں نے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ منگل کو رہا ہونے والے اطالوی افراد میں سے ایک خاتون سمونا توریتا نے کہا ہے کہ اغوا کار ان کے ساتھ عزت سے پیش آئے۔ انہوں نے اپنے اغوا کارروں کے بارے میں کہا ’وہ مذہبی لوگ تھی اور انہوں نے ہمیں اغوا کرنے پر ہم سے معا فی بھی مانگی‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||