ایک امریکی کی ہلاکت، ایک اغوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے مبینہ بیان میں ایک امریکی کو سعودی عرب میں ہلاک اور ایک کے اغواء کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ہلاکت کی اطلاع پہلے آ چکی ہے تاہم اغواء کا دعویٰ خود کا اسلامی قرار دینے والی ویب سائٹ سے جاری کیے جانے والے بیان میں کیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ ایک امریکی شہری لاپتہ ہے اور سعودی حکام کے تعاون اسے تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ویب بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مغوی کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا جیسا کہ گوانتناموبے کے قیدیوں اور ابو غریب کے قیدیوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اغوا کی اس اطلاع سے قبل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک امریکی کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کی خبر آ چکی ہے اور اس ہفتے میں ہلاک ہونے والا یہ تیسرا مغربی غیر ملکی ہے۔ یہ واقعہ ریاض کے نواح میں پیش آیا اور سعودی پولیس علاقے میں مشتبہ افراد کو تلاش کر رہی ہے۔
قاہرہ میں بی بی سی کی نمائندہ حبہ صالح کا کہنا ہے کہ اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسندوں نے اب ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے اور اب شدت پسندوں ایسے افراد کی نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں آسانی سے گلیوں میں یا گھروں کے قریب زد میں لیا جا سکے۔ ریاض پولیس کے سربراہ نے سعودی پریس ایجنسی کو بتایا ہے امریکی شہری کی ہلاکت کا یہ نیا واقعہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً شام چار بجے پیش آیا۔ امریکی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا ہے اب تک اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکی ہے لیکن ابھی تفتیش جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||