سعودی عرب میں مغربی باشندے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی دارالحکومت ریاض میں بی بی سی کے کیمرہ مین سائمن کمبرز کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ اسی حملے میں سکیورٹی کے امور سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ کیا آپ سعودی عرب میں رہتے ہیں؟ سعودی عرب میں غیرملکیوں کے متعلق عوام کا کیا رویہ ہے؟ کیا وہاں القاعدہ سرگرم ہے؟ آپ کے خیال میں کیا سعودی عرب میں صرف مغربی ملکوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جان کو خطرہ ہے؟ ہندوستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ سعودی عرب میں کیا رویہ ہے؟ بی بی سی کے صحافیوں پر حملے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں پرویز بلوچ، بحرین: سعودی عرب جیسے امن پسند معاشرے میں بی بی سی کے صحافیوں پر حملہ خاصی افسوس ناک بات ہے۔ شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات: میں پانچ سال تک سعودی عرب رہی ہوں اور وہاں غیر ملکیوں کے ساتھ رویہ تھوڑا نہیں بلکہ خاصا مختلف ہوتا ہے۔ لیکن ہم بچپن سے اپنے مذہبی جذبات کی وجہ سے اس سرزمین سے بہت عقیدت رکھتے ہیں، اس لئے غلط باتیں بھی برداشت کرتے ہیں۔ محمد شبیر عالم، کرناٹک، انڈیا: سچا صحافی انسان دوست ہوتا ہے اور اس پر حملہ انسانیت پر حملہ ہے۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: یہ تو نہیں کہوں گا کہ ان کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا لیکن معصوم جان لینا انسانیت کے قتل سے کم نہیں۔ آج کل سعودی حکمرانوں کو صرف اپنی حفاظت کی فکر ہے۔ میرا نہیں خیال کے اس میں القاعدہ ملوث ہے۔ فیصل تقی، کراچی، پاکستان: نہیں ان کو ان کی شہریت کی وجہ سے نہیں مارا گیا۔ نجیب رانا، لاہور، پاکستان: یہ بہت افسوس ناک واقعہ ہے اور اسلام اس کی بالکل اجازت نہیں دیتا۔ لیکن مغربی میڈیا کے بھی دوہرے معیار ہیں۔ مسلمان روزانہ عراق، افغانستان اور دنیا بھر میں مارے جارہے ہیں لیکن کسی کو پرواہ نہیں اور معصوم شہریوں کو ’مجموعی نقصان‘ کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ خلیل اخون، بہاول نگر، پاکستان: یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں مسلمانوں نے قتل کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھانے کے لئے سی آئی اے نے کیا ہو۔ حسیب خان، ملتان، پاکستان: جس نے بھی کیا غلط کیا۔ اس سے صرف مسلمانوں اور مغرب کے درمیان کشیدگی اور نفرت کو ہوا ملے گی۔ فرح اقبال، ریاض، سعودی عریبیہ: سعودی عرب کے حکمران اپنی ناجائز بادشاہت کو قائم رکھنے کے لئے یہود پسند پالیسیوں پر کھل کر عمل کر رہے ہیں۔ یہاں کے عوام کی بڑی اکثریت مجاہدین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ مسلمان اب صرف اور صرف جہاد کے ذریعے ہی مسلمانوں کو کافروں سے بچا سکتے ہیں۔ بی بی سی والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی امریکی ایجنڈے کے لئے کام کررہے ہیں۔
عمر آفتاب، برطانیہ: میں سعودی عرب میں تین سال رہا ہوں۔ وہاں میں اپنے لئے ’رفیق‘ کا لقب تین چار بار روزانہ سنتا تھا۔ شروع میں تو خوش ہوا کہ یہ مجھے دوست جانتے ہیں۔ کچھ وقت گزرا تو معلوم ہوا کہ اس کا مطلب وہی ہے جو برطانیہ میں ’پاکی‘ کا ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ یہاں برطانیہ میں پچھلے ایک سال میں کارڈف میں صرف ایک شخص نے پاکی کہا تھا اور وہ بھی شراب کے نشے میں دھت تھا اس لئے میرے دل میں اس کے لئے کوئی میل نہیں۔ لیکن میں اپنے اور اپنے دوستوں کے ساتھ سعودیوں کا رویہ نہیں بھول سکتا۔ ان کے ساتھ جو بھی ہورہا ہے ہوتا رہے، میری بلا سے۔ قیصر، بیجنگ، چین: یہ لوگ معصوم لوگوں کی جانیں لے کر جانے کس اسلام کی خدمت کررہے ہیں؟ کیونکہ جو اسلام آج سے چودہ سو سال پہلے آیا تھا اس میں تو اس طرح کے کاموں کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ وہ اسلام تو انسانیت سے پیار اور محبت سکھاتا ہے۔ تبسم امتیاز، کراچی، پاکستان: مجھے معلوم ہے کہ آپ صرف وہی رائے چطاپیں گے جو بی بی سی کے حق میں ہوگی۔ بی بی سی کس کے پیسے پر چل رہا ہے؟ کیا وہ بھی مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم کے باوجود امریکہ اور برطانیہ کی پالیشسیوں کی حمایت نہیں کرتا؟ میڈیا کے ذریعے یہ بھی اس جنگ میں شامل ہے۔ یاسر، میرپور، پاکستان: صحافی مسلمان ہوں یا غیر مسلم وہ لوگوں کے سفیر ہوتے ہیں۔ اس طرح کے قتل کی کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس میں القاعدہ ملوث ہے بلکہ یہ کوئی ایسا گروہ ہے جو سعودی عرب میں ترقی اور امن کے خلاف ہے۔ الطاف حسین، دہلی، انڈیا: کیونکہ اب جنگ کا انداز بدل چکا ہے اور اب ٹینک اور توپوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی بھی جنگ چلتی ہے، اس لئے صحافی بھی مارے جارہے ہیں۔ صحافی تو الجزیرہ کے بھی امریکی فوج کے ہاتھوں مارے گیے، اس کے بارے میں آپ نے لوگوں کی رائے کیوں نہیں پوچھی؟ شفیع محمد، امریکہ: میڈیا عام آدمی تک خبریں اور اطلاعات پہنچانے کا ابلاغ کا واحد ذریعہ ہے۔ میڈیا کے لوگوں پر حملہ باکل قابلِ قبول نہیں ہے۔ کامران احمد، دوبئی: میں سعودی عرب میں تو نہیں رہتا لیکن میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ بےگناہ لوگوں کو چاہے وہ کسی بھی ملک، کسی بھی مذہب سے ہوں، ان کو قتل کرکے اسلام کی کون سی خدمت ہورہی ہے؟ بی بی سی کے عملے پر اس طرح حملہ کرنا انتہائی افسوس کی بات ہے، یہ لوگ وہاں پر مہمان تھے۔ مسلمان اپنے مہمانوں کا خیال کرتے ہیں، ان کی جان نہیں لیتے۔ حاجی محمد شریف، ملکانی شریف سندھ: میں سعودی عرب میں سات سال رہ چکا ہوں۔ سعودی عرب میں وہاں کے مقامی افراد کا غیرملکیوں، خاص طور پر پاکستانیوں سے رویہ مناسب ہے۔اصل میں وہاں بہت زیادہ پاکستانی ہیں۔ اکثر پاکستانیوں کی غلط حرکت نے پاکستانیوں کو وہاں بدنام کیا ہے۔ سعودی عرب میں دیگر غیرملکیوں کے ساتھ رویہ بھی مناسب ہی ہے۔ آج کل جو واقعات ہوئے ہیں ان کو سعودی عوام کا رویہ نہیں کہا جاسکتا۔ میرے خیال میں یہ کچھ خاص افارد کی سازش ہے جو سعودیوں کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ صائمہ تبسم، کراچی: ان صحافیں کا نام سنہرے حروفوں سے لکھا جائے گا۔ محمد یوسف اقبال، یو اے ای: یہ بہت ہی دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ مجھے اس کا دلی طور پر رنج ہے۔ اللہ ان کے خاندانوں کو صبر کی توفیق دے۔ کاش میں ان کی فیملیز سے ملکر اظہار افسوس کرسکتا۔ یہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے بی بی سی کا دم قائم ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ انسان ہیں۔ واجد علی، ٹورانٹو: اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اس شخص کو ہلاک کردی جو آپ سے جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ کافی افسوس ہے کہ معصوم لوگوں کا قتل کردیا گیا۔ لیکن ان عراقیوں اور فلسطینیوں کو نہ بھولیں، کوئی آواز نہیں اٹھا رہا ہے۔ چاہے جرمنی ہو یا فرانس یا روس سب امریکہ سے اپنے مفاد کی خاطر بات کررہے ہیں۔
سعید بٹ، لاہور: میں کافی عرصہ سعودی عرب میں رہ چکا ہوں۔ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ ملک آمریت اور مطلق العنانی کی ایک بدترین مثال ہے۔ یہ کافی حیران کن بات ہے کہ فی زمانہ دنیا میں اس قسم کی حکومتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ سعودی عرب میں اگر کسی غیرملکی کی کوئی بات سنی جاتی ہے تو وہ صرف مغربی باشندے ہیں۔ایشین، خاص کر ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کی حیثیت اور عزت کسی تیسرے درجے کے شہری سے زیادہ نہیں ہے۔ شخصی آزادیوں کا مکمل فقدان ہے۔ بی بی سی کے لوگوں کا قتل بھی اسی ظلم اور صدائے حقوق کا گلا گھونٹنے کا قدرتی ردعمل ہے۔ حسن علی، کراچی: انسانوں کا قتل بہرحال کوئی اچھی بات نہیں ہے اور پھر صحافی حضرات کا احترام ہونا چاہئے۔پر کیا کریں کبھی کبھی بزرگوں کی غلطیاں نسلیں بھگتتی ہیں۔ اب سے قریبا ڈھائی سو سال پہلے انہیں برِٹش کے آبا و اجداد نے اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے جس قسم کے اسلام کو سہارا دیا اور مضبوط کیا آج وہ خود ان کی نسلوں کی جان لے رہا ہے۔ کاظم رضا نقوی، برازیل: یہ بہت برا ہے۔ اس کی وجہ سے تشدد میں تیزی آئے گی۔ لیکن یہ سب کچھ امریکہ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ بش زیادہ تشدد کررہے ہیں اور القاعدہ کو مواقع فراہم کررہے ہیں۔
جاوید، جاپان: دراصل آج کی دنیا کے کچھ مکار لیڈروں نے حالات کچھ ایسے کردیے ہیں کہ ہر انسان خوفزدہ ہے، کبھی بھی کچھ بھی ہوجائے عجیب سی بات نہیں۔ یہ سب ان مکار لیڈروں کی وجہ سے ہورہا ہے جو انسان کا خون اپنی حکومت چلانے کے لئے کرتے ہیں۔ میں ایک غیرمسلم ملک میں رہتا ہوں اور بےخوف نماز پڑھ سکتا ہوں، لیکن مسلم ملک میں خوف ہوتا ہے کہ یہ قاتل بھیڑیے ہیں جو انسانوں کا قتل کرتے ہیں۔ پرویز مخدومی، گجرانوالہ: اپنے ملک کی آزادی کی جنگ لڑنے کا ہر کسی کو حق حاصل ہے۔ مگر بےگناہوں کو مار کر اگر کوئی یہ کہے کہ وہ یہ جنگ جیت گیا تو یہ اس کی بھول ہے۔ صحافی، ایڈ ورکر، امدادی سروسز کے لئے کام کرنے والوں کو مارنا کوئی بہادری نہیں ہے بلکہ بےحد بزدلی ہے اور یہ چیز عام لوگوں میں نفرت پیدا کرتی ہے۔ کیونکہ نہ تو یہ لوگ ملٹری میں ہوتے ہیں، نہ ہی کوئی اس سے خطرہ درپیش ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں سعود ڈِکٹیٹر ہیں تو ان کا تختہ الٹنا چاہئے، نہ کہ بےگناہ لوگوں کو مارکر۔ یہ لوگ اسلام کی مکروہ تصویر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اسلام تو امن و آشتی اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔ جن لوگوں نے یہ بھیانک اور غیراسلامی فعل کیا ہے ہم اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور مرنے والے کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||