امام کاقتل، 15 پولیس اہلکار اغوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں ایک سنی مسجد کے امام کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ انہیں اتوار کے روز دو باڈی گارڈوں سمیت اغواء کر لیا گیا تھا۔ ہازم الزیدی بغداد کے مشرق میں صدر سٹی کی مسجد کے پیش امام تھے۔ انہیں اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ مسجد سے نماز مغرب ادا کر کے نکلے تھے۔ انکی لاش پیر کی صبح ملی۔ اطلاعات کے مطابق ہازم الزیدی کے محافظوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ ہازم الزیدی کو ہلاک کرنے والوں کی ابھی نشاندہی ہو پائی ہے نہ ان کا مقصد پتہ معلوم ہو سکا ہے۔ اس سے پہلے الجزیرہ ٹی وی چینل کے مطابق عراق میں ایک مزاحمتی گروہ نے عراقی نیشل گارڈز کے پندرہ اہلکاروں کو اغواء کر لیا تھا۔ اس مزاحمتی گروہ نے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر مقتدیٰ الصدر کے ایک گرفتار شدہ معتمد خاص کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ گروہ کا کہنا تھا کہ اگر اڑتالیس گھنٹوں کے اندر ان کا مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو وہ پندرہ اغواء شدہ اہلکاروں کو ہلاک کر دیں گے۔ مقتدیٰ الصدر کے ایک معتمد خاص ہازم العراجی کو امریکی افواج نے بغداد میں ایک فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا تھا۔ الجزیرہ پر نشر ہونے والی ایک فلم میں عراقی نیشنل گارڈز کے چند اغواء شدہ اہلکاروں کو دکھایا گیا۔ اس فلم میں بندوق بردار مزاحمت کار اغواء شدگان کے سروں پر پستولیں تانے کھڑے تھے۔ بغداد میں عبوری حکومت نے اغواء ہونے والے اہلکاروں کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ ادھر برطانوی وزارتِ خارجہ نے ایک اور عربی ٹی وی چینل العربیہ پر اغواء شدہ برطانوی انجینیئر کی رہائی کی اپیل کی ہے۔ اغواء کاروں نے دھمکی دی تھی کہ اگر عراقی جیلوں میں قید خواتین کو پیر تک رہا نہ کیا گیا تو وہ برطانوی انجینیئر اور دو امریکی باشندوں کو قتل کر دیں گے۔ عراق میں تشدد جاری ہے اور سمارہ میں ایک خود کش حملے میں دو فوجی اور ایک شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ فلوجہ میں امریکی فوج کی بمباری جاری ہے۔ دریں اثناء عراق کے وزیر اعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ عراق میں تشدد کی کارروائیوں کے باوجود انتخابات اعلان شدہ شیڈول کے مطابق جنوری میں کرائے جائیں گے۔ ایاد علاوی نے لندن میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات کے بعد ایک بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ انتخابات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن امداد مہیا کرئے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران عراق میں تین سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ اگر عراق میں تشدد کی کارروائیاں جاری رہیں تو انتخابات اعلان شدہ وقت کے مطابق نہیں کروائے جا سکیں گے۔ ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ عراق کی جنگ عالمی دہشت گردی کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عراق میں مزاحمت کامیاب ہوئی تو اس سے عالمی دہشت گردی میں اضافہ ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||