بغداد میں دھماکے، ساٹھ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے مرکز میں دو بڑے دھماکے ہوئے ہیں جن میں کئی افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ امریکی فوج نے گزشتہ شب فلوجہ اور رمادی میں ساٹھ مزاحمت کاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جمعہ کی صبح مرکزی بغداد میں ہونیوالے دھماکوں میں عینی شاہدین کے مطابق ایک حملہ کار بم کے ذریعے کیا گیا۔ ٹیلی ویژن کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ الرشید سٹریٹ پر امریکی فوجی اور عراقی پولیس علاقے کو خالی کرا رہے ہیں۔ تفصیلات ابھی نہیں موصول نہیں ہوئی ہیں تاہم لگتا ہے کہ دوسرا حملہ حیفہ سٹریٹ پر ہوا جہاں تین دن قبل ایک بم دھماکے میں پچاس لوگ مارے گئے تھے اور وہاں مسلح لڑائیاں ابھی جاری ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک ڈونکِن کا کہنا ہے کہ ان دنوں مزاحمت کار حیفہ سٹریٹ سے مورٹار اور راکٹ داغ رہے ہیں۔ یہ دونوں دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکی فوج نے کہا کہ اس نے گزشتہ شب فلوجہ اور رمادی میں کارروائی کرکے ساٹھ مزاحمت کاروں کو ہلاک کردیا ہے۔ جبکہ عراقی وزارت صحت نے ہلاکتوں کی تعداد چوالیس بتائی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق مرنے والوں میں اکثر غیر ملکی یعنی باہر سے عراق میں آکرنے لڑنے والے مزاحمت کار تھے۔ فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے مختلف عمارتوں پر کیے گئے جنہیں شدت پسند ابومصعب الزرقاوی کے ساتھی استعمال کر رہے تھے۔ تاہم فلوجہ جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہاں چودہ زخمیوں کا علاج ہو رہا ہے جن میں اکثر عورتیں اور بچے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ طیاروں کی بمباری سے عام لوگ بھی زخمی ہوئے تاہم اس بارے میں اطلاعات مکمل نہیں ہیں۔ یہ حملہ جمعرات کی رات شروع کیا گیا تھا اور امریکی فوج کے بیان کے مطابق جسے خبر رساں ادارے رائٹرز نے جاری کیا یہ کہا گیا ہے کہ لگ بھگ نوے غیر ملکی مزاحمت کاروں پر حملہ کیا گیا تھا۔ جمعرات کو انبار کے صوبے میں تین امریکی میرین ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||