عراق میں لوگوں کا احتجاج، نعرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وسطی بغداد میں واقع پولیس سٹیشن کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے کے نتیجے میں اب تک سینتالیس افراد کے ہلاک ہو نے کی خبر ہے۔ یہ دھماکہ کل ہوا تھا۔ عراق کے وزیرِ داخلہ کے اس مقام کے دورے کے موقع پر جہاں دھماکہ ہوا تھا، لوگوں نےاحتجاج کیا اور امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ بغداد میں تھانے کے قریب ہونے والے دھماکے میں سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ بم پھٹنے سے سڑک میں گڑھا پڑ گیا اور لاشوں کے ٹکڑے دور دور بکھر گئے۔ اس کے علاوہ پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح افراد نے بغداد کے شمال میں بارہ پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ بغداد سے مشرق میں رمادی شہر میں امریکی فوجیوں اور مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپ میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اس واقعہ میں بائیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ بغداد میں ایک بم حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے اور ایک فوجی موصل میں ہلاک ہوا۔ تلعفر کی ناکہ بندی اور ترکی کی دھمکی بظاہر یہ ناکہ بندی ترکی کے اس اعلان کے بعد ختم کی گئی ہے جس میں اس نے امریکہ کہ ساتھ عراق کی جنگ میں تعاون ختم کرنے کی بات کی تھی۔ تلعفر شہر میں بہت بڑی تعداد میں تُرک نسل کے لوگ آباد ہیں۔ تیل کی پائپ لائن عراق میں بجلی کے عبوری وزیر نے کہا ہے کہ بائیجی میں پیش آنے والے واقعہ کے باعث ملک بھر میں بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو حیفہ سٹریٹ میں امریکی فوج کے ساتھ ایک مسلح لڑائی میں ہلاک ہونے والے لوگوں میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اس واقعہ میں کم از کم ایک سو چودہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||