فلوجہ پر امریکی بمباری، بیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شہر فلوجہ پر تازہ امریکی حملے میں بیس عراقی ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکیوں نے جن مقامات پر بمباری کی ان میں ایک مکان بھی تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ابو مصعب الزرقاوی کے حامیوں کا گھر تھا جسے امریکی عراق میں سارے تشدد کا سبب کہتے ہیں۔ فلوجہ کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بہت سے عام شہری تھے۔ فلوجہ پر مزاحمت پسندوں کا قبضہ ہے۔ فلوجہ میں ہسپتال کے ذرائع نے کہا ہے کہ پیر کو امریکی بمباری میں مرنے والوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدوں کے مطابق بہت سے لوگ شہر کو چھوڑ کر جا رہے ہیں اور شہر میں بہت سی جگہوں سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ فلوجہ شہر پر عراق کی عبوری حکومت اور امریکہ مخالف مزاحمت کاروں کا قبضہ ہے۔ امریکی فوج نے لاؤڈ سپیکروں پر مزاحمت کاروں کو شہر سے نکالنے کے لیے شہریوں سے مدد کی اپیل کی۔ گزشتہ روز عراق میں وزارتِ صحت کا نے
اطلاعات کے مطابق بغداد کے مرکزی علاقے میں عبوری حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک کی شدید ترین لڑائی ہوئی۔ بغداد میں اتوار کے روز گھنٹوں لڑائی جاری رہی اور تیس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ بغداد میں لڑائی میں مزاحمت کاروں نے حکومتی عمارتوں پر حملوں کے لیے راکٹ اور مارٹر استعمال کیے۔ بغداد کے علاوہ مغرب، شمال اور جنوبی علاقوں میں بھی لڑائی ہوئی۔ بغداد کے مغربی میں رمادی شہر میں امریکی اور عراقی فوجوں کے ساتھ جھڑپوں میں دس مزاحمتی ہلاک ہو گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||