عراق میں شدید تشدد 70 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے مختلف شہروں میں ہونے والے تشدد کے شدید ترین واقعات میں کم از کم ستر افراد ہلاک بتائے جاتے ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق بغداد کے مرکزی علاقے میں عبوری حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک کی شدید ترین لڑائی ہوئی ہے۔ اس لڑائی میں مزاحمت کاروں نے حکومتی عمارتوں پر حملوں کے لیے راکٹ اور مارٹر استعمال کیے اور کہا جاتا ہے کہ یہ لڑائی کئی گھنٹے تک جاری رہی۔ اس سے پہلے کی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ بغداد کے ہلاک ہونے والوں 24 افراد میں ایک صحافی بھی شامل ہے جب کہ سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ بغداد کے’ گرین زون‘ کے علاقے پر جہاں عراقی عبوری حکومت کے دفاتر، امریکہ اور دیگر ممالک کے سفارت خانے قائم ہیں ، راکٹوں اور مارٹروں سے حملہ کیا گیا۔ بغداد کے اس علاقے جس کو گرین زون کہا جاتا ہے فائرنگ اور دھماکوں کی مسلسل آوازوں سے گونجتا رہا اور اس علاقے سے دھویں کے بادل بھی اٹھتے رہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق بغداد میں یہ شدید ترین لڑائی ہے۔امریکی ہیلی کاپٹروں نے بھی فوجی کارروائی میں حصہ لیا اور علاقے میں مختلف جگہوں پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ امریکی ہیلی کاپٹر نے ایک تباہ شدہ امریکی گاڑی کا نظارہ کرنے والوں پر میزائیل فائر کیا جس سے دو بچے اور عرب ٹی وی چینل ، العریبہ کے ایک صحافی ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق ابو غریب جیل پر ایک کار بم سے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بغداد کے شمال میں رمادی سے بھی لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ بغداد میں ایک کار بم دھماکے کی بھی اطلاع ہے جس میں دو پولیس والوں سمیت ایک بچہ بھی ہلاک ہوگیا ہے۔ بغداد کا گرین زون کا علاقہ جس میں سرکاری دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانے قائم ہیں عراقی مزاحمت کارروں کی کارروائیوں کا اکثر نشانہ بنتا رہتا ہے۔ اتوار کی صبح بغداد میں درجنوں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور پوار شہر ان دھماکوں سے لرزتا رہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||