’مسلح مزاحمت نہیں ٹھیک نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں چار اعلیٰ شیعہ رہنماؤں نے کہا ہے کہ امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کے خلاف احتجاج مسلح مزاحمت کی صورت میں نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم ایک رہنما شیخ علی نجفی نے کہا کہ اگر غیر ملکی فوجی زیادہ دیر ملک میں موجود رہے تو مسئلے کے پُر امن حل کا وقت نکل جائے گا۔ ان کے تبصرے کے باوجود عراق کے مختلف علاقوں میں ہفتے کے روز پُر تشدد واقعات ہوئے۔ یہ رہنما آیت اللہ سیستانی کے گھر میں اکٹھے ہوئے تھے۔ دیگر دو علما کے نام آیت اللہ محمد سعد حکیم اور اسحاق فاید ہے۔ آیت اللہ نجفی بعد میں آئے اور انہوں نے علیحدگی میں آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق عراق کے شیعہ آبادی ان علما کی بات سُنےگی اور زیادہ تر ان کی بات مانیں گے۔ ہفتے کے روز نجف میں امن رہا لیکن بغداد میں صدر کے علاقے میں جنگجوؤں اور امریکی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ وزارت صحت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جھڑپوں میں تین لوگ ہلاک اور پچیس زخمی ہوئے۔ اہم واقعات ٭فلوجہ میں امریکی فوجیوں اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوئی جہاں گزشتہ رات امریکی فوج کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ٭موصل میں ایک لیکچرار کو اس وقت مار دی گئی جب وہ یو نیورسٹی جا رہی تھیں۔ ٭کرکوک میں امریکی فوج اور عراقی پولیس کے درمیان جھڑپ میں دو پولیس والے زخمی ہو گئے۔ اس وقعے کو غلطی قرار دیا گیا ہے۔ ٭ یر غمال بنائے جانے والے بارہ نیپالیوں کی ویڈیو فِلم ایک ویب سائٹ پر دکھائی گئی۔ دریں اثنا عراق کی عبوری حکومت کے وزرا کی ایک ٹیم نجف میں آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کرنے گئی ہے جہاں انہوں نے شہر کی تعمیر نو کے بارے میں صلاح مشورے کیے۔ وزرا امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں بیٹہ کر نجف پہنچے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||