مزاحمت کاروں کےگردگھیرا تنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نجف میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عراقی فوج اور امریکی ٹینک بتدریج حضرت علی کے روضے کے گرد حصار تنگ کر رہے ہیں۔ روضہ اور اس کے اطراف کی عمارتوں پر مقتدی الصدر کے حامی قابض ہیں۔ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران اس علاقے کے گلی کوچوں میں امریکی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ عراق کے عبوری وزیر دفاع حازم شالان کا کہنا ہے کے حکومت کے صبر کا پیمانہ بھر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج (منگل) روضے کی حصار بندی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور اب شدت پسندوں کو لاؤڈ سپیکرز کے ذریعہ احاطہ خالی کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی پشت پناہی میں قائم عراق کی عبوری حکومت کی طرف سے پہلے بھی ایسی مہلتیں گزر چکی ہیں۔ امریکہ مخالف عراقی رہمنا مقتدی الصدر کئی روز سے دیکھے نہیں گئے تاہم ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ نجف میں ہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||