روضۂ علی کی دیوار کو نقصان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شہر نجف اشرف میں امریکی فوجوں نے ایک بار پھر حضرت علی کے روضہ کے اردگرد حملے کیے جس سے کہا جاتا ہے کہ روضۂ علی کے احاطے کی دیوار کو نقصان پہنچا ہے ۔ مختلف ٹیلی ویژن چینل دیوار کو پہنچنے والے نقصان کی عکس بندی دکھا رہے ہیں تاہم امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ دیوار نقصان ان کی کارروائی کی وجہ سے نہیں پہنچا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی کارروائی سے روضہ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے مزاحمت کاروں پر بمباری کی جبکہ امریکی ٹینک گولہ باری کرتے ہوئے روضہ علی سے چار سو میٹر قریب پہنچ گئے۔ روضہ علی پر اب بھی مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کا کنٹرول ہے اور روضہ کا کنٹرول آیت اللہ علی سیستانی کے حوالے کرنے کے لئے بات چیت بے نتیجہ رہی ہے۔ روضۂ علی کے احاطے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روضۂ علی میں سینکڑوں عراقی موجود ہیں۔ پیر کو جیسے ہی دن کا آغاز ہوا، روضۂ علی کے احاطے میں مارٹر گولے داغے جانے کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔ مقتدیٰ الصدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ روضہ کا انتظام آیت اللہ سیستانی کے نمائندوں کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم آیت اللہ سیستانی کے ایک قریبی معتمد سید موسوی کا کہنا ہے کہ پہلے دونوں فریق کو اپنی سپاہ واپس لے جانی چاہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||