نجف : ٹینکوں کا حملہ اور مزاحمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نجف پر امریکی ٹینکوں اور مشین گنوں کے حملے کی مزاحمت نے شدید ترین جنگ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقتدیٰ الصدر کے حامیوں پر اس حملے میں امریکی فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ اس سے پہلے کی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ نجف میں کشیدگی ہے اور مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی فوج مقدس شہر میں داخل ہوئی تو مقابلہ کیا جائے گا۔ مقتدٰی الصدر کے ایک ترجمان شیخ محمود السوڈانی نے کہا ہے کہ جیش مہدی نجف شہر کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اگر امریکی شہر میں داخل ہوئی تو اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا جب کہ امریکی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکی اور عراقی فوج نے مشترکہ تربیتی مشقیں شروع کی ہیں اور نجف پرایک بڑے حملے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ نجف میں جاری لڑائی کو ختم کیا جا سکے۔ عراق کے ایک نائب صدر ابراہیم جعفری نے امریکی فوج سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نجف سے پیچھے ہٹ جائے اور عراقی فوج کو نجف میں کارروائی کرنے دے۔ لیکن امریکی فوج جسے نجف کے گورنر نے بلایا تھا نے عراقی نائب صدر کی درخواست پر نجف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ پسپا ہونے کی بجائے پیش قدمی کی تیاری کر رہی ہے۔ امریکی فوج کے ایک کرنل انتھونی ہسلام نے کہا تھا کہ امریکی فوج نجف میں مقتدی الصدر کی جانب سے شروع کی جانے والی لڑائی کو ختم کرنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ امریکی فوج کے ترجمان نے کہا نجف کے گورنر عدنان الزورفی نے امریکی فوج کو حضرت علی کے روضے میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے کیونکہ مقتدی الصدر کی ملیشیا کے ارکان روضے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ مقتدی الصدر نے اپنے ماننے والوں سے کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ مارے یا پکڑے جائیں تب بھی لڑائی جاری رکھی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||