عراقیوں کو نجف چھوڑنے کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے عراقیوں کو نجف سے نکل جانے کو کہا ہے جس سے شہر پر تازہ حملے کے بارے میں خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ عربی زبان میں جاری کیے گئے اعلامیے میں اگلے مورچوں کے قریب رہائش پذیر عراقیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں کیونکہ ملیشیا کے ساتھ جنگ بندی کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ بغداد میں امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’دشمن فوج‘ کے حملوں کی وجہ سے زخمیوں کو نکالنے کے لیے نجف میں چوبیس گھنٹے کی جنگ بندی اپنی افادیت کھو چکی ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار الیسٹر لیتھیڈ کا کہنا ہے کہ نجف میں جاری لڑائی عراقی عبوری حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ دریں اثنا نجف میں امریکی فوج اور شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کی حامیوں کے مابین لڑائی کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق حضرت علی کے روضے کے ملحقہ قبرستان کے گرد زبردست لڑائی ہو رہی ہے۔ امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں نے منگل کے روز نجف میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ قبرستان کے قریب توپوں اور ٹینکوں کی گھن گرج نظر آ رہی ہے۔ مقتدیٰ الصدر پہلے ہتھیار ڈالنے اور نجف سے نکل جانے سے متعلق عراقی حکومت کی اپیلوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ دوسری طرف دارالحکومت بغداد میں کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بظاہر یہ دھماکے مارٹر گولے اور راکٹ داغے جانے کی وجہ سے ہوئے ہیں اور ان کی آوازیں ان ہوٹلوں کے قریب ہوئے ہیں جہاں غیر ملکی قیام کرتے ہیں۔ عراق میں غیر ملکی سفارتکار، اتحادی فوجی اور صحافی بھی اسی علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ دھماکے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے کئے یا سنی مزاحمت کاروں نے۔ صدر بش نے دعویٰ کیا ہے کہ شدید لڑائی کے باوجود امریکی فوجوں نے نجف میں اپنی پوزیشن مستحکم بنانے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ مقتدیٰ الصدر کو قتل کرنے یا گرفتار کرنے سے متعلق امریکی پالیسی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ امریکی پالیسی یہ ہے کہ عراقی وزیر اعظم ایاد علاوی کے ساتھ مل کر کام کیا جائے اور ملک میں حالات کو انتخابات کے لیے سازگار بنایا جائے۔ صدر بش نے پولینڈ کے وزیر اعظم ماریک بیلکا سے ملاقات کے بعد عراق میں فوجی خدمات پر پولینڈ کو خراج تحسین پیش کیا۔ پیر روز بصرہ میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے ہاتھوں برطانوی فوجی کی ہلاکت کے بعد فوج کو ہائی الرٹ پوزیشن کا اعلان کر دیا گیا ہے جبکہ بغداد کے صدر سٹی کے علاقے میں شدید جھڑپوں کے بعد سولہ گھنٹے کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کرفیو کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ کرفیو کے باوجود رات بھر لڑائی جاری رہی۔ دوسری طرف مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد بصرہ کے قریب واقع کنوؤں سے تیل نکالنے کا کام روک دیا گیا ہے۔ عراقی مزاحمت کاروں کی طرف سے دو اردنی اور دو لبنانی ڈرائیوروں کو رہا کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||