عراق: موت کی سزا بحال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی عبوری حکومت نے ملک میں موت کی سزا بحال کردی ہے لیکن ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا اطلاق سابق عراقی رہنما صدام حسین پر ہوگا یا نہیں۔ حال ہی میں عراق کی امریکی انتظامیہ نے جو قوانین نافذ کیے تھے ان کے تحت موت کی سزا ختم کردی گئی تھی۔ حالیہ دنوں میں اس بات کی قیاس آرائی جاری تھی کہ اس قانون کے تحت صدام حسین کو موت کی سزا ہوسکتی ہے یا نہیں۔ لیکن اتوار کے روز عراق کی عبوری حکومت نے یہ قیاس آرائی ختم کردی۔ ایک ایسے وقت جب عراقی وزیراعظم ایاد علاوی نجف کے دورے پر ہیں، بغداد میں نائب وزیرانصاف بوشو ابراہیم نے اعلان کیا کہ قتل، منشیات کے کاروبار، عراقی وسائل پر حملے اور وسیع تباہی کے ہتھیاروں جیسے جرائم کے مرتکب افراد پر موت کی سزا لاگو ہوگی۔ عراق کی عبوری حکومت نے معمولی جرائم کے مرتکب لوگوں کے لئے عام معافی کے اعلان کے ایک دن بعد ہی موت کی سزا بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثناء وزیراعظم ایاد علاوی نجف کا دورہ کررہے ہیں جہاں امریکی افواج اور شیعہ ریڈیکل رہنما مقتدی الصدر کی ملیشیا کے ارکان کے درمیان گذشتہ چند دنوں سے لڑائی ہوتی رہی ہے۔ دوسری جانب مقتدی الصدر کے حامیوں نے ایاد علاوی کی جانب سے عام معافی کو مسترد کردیا ہے۔ نجف میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے علاوی نے کہا کہ ملیشیا کے ارکان نجف کے مقدس مقامات چھوڑ کر چلے جائیں، ہتھیار ڈال دیں اور قانون کی پابندی کریں۔ عراقی وزیراعظم نے چھوٹے جرائم کے مرتکب لوگوں کیلئے تیس دن کا عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے حکومت کی جانب سے دی جانیوالی عام معافی پر تنقید کی ہے اور اسے بےوقعت قرار دیا۔عام معافی کا اطلاق قتل اور دوسرے بڑے جرائم کے مرتکب لوگوں پر نہیں ہوگا۔ علاوی نے نجف پہنچنے پر شہر کے گورنر سے حالات پر بات چیت شروع کی۔ اتوار کے روز چوتھے دن بھی نجف میں اکا دکا مسلح جھڑپیں ہوتی رہیں۔ گذشتہ شب دارالحکومت بغداد میں بھی عالمی سیکیورٹی زون کے پاس مورٹر آکر گرے۔ بغداد کے علاقے صدر سٹی میں بھی مسلح جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ عراق کے جنوبی شہر عمارہ اور بصرہ میں بھی مسلح جھڑپیں ہوئیں۔ اقوام متحدہ نے نجف میں فائربندی کرانے کی پیشکش کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے ترجمان نے نجف میں ہونیوالی لڑائی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا: ’اگر کوئی مدد ہوسکے تو ۔۔۔۔موجودہ تنازعہ میں کردار ادا کرنے کے لئے اقوام متحدہ تیار ہے۔‘ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فریقین نے مصالحت کی کوششیں کی ہیں۔ نجف پہنچنے پر ایاد علاوی نے یہ بات دہرائی کہ انہیں مقتدیٰ الصدر کی جانب سے ’مثبت اشارے‘ ملے ہیں۔ جمعہ کو مقتدی الصدر نے فائربندی کی اپیل کی تھی۔ سنیچر کو ایاد علاوی نے عام معافی کا نیا قانون نافذ کیا۔ نجف میں بدھ کے روز سے امریکی فوجیوں اور مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا کے ارکان کے درمیان شروع ہونیوالی لڑائی میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں۔ جمعہ کو امریکی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ ملیشیا کے تین سو ارکان ہلاک ہوگئے ہیں لیکن مقتدی الصدر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صرف چھتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||