BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 August, 2004, 16:51 GMT 21:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نجف میں لڑائی، الجزیرہ پر پابندی
سنیچر کے روز نجف کے ایک بازار کا منظر
سنیچر کے روز نجف کے ایک بازار کا منظر
عراقی وزیراعظم ایاد علاوی نے ملک کی تعمیر نو اور تشدد پر قابو پانے کی غرض سے عام معافی کا اعلان کیا ہے جس کا اطلاع معمولی جرائم میں ملوث افراد پر ہوگا۔ انہوں نے عام معافی کا اعلان ایسے وقت کیا جب عراق کے مقدس شہر نجف میں تیسے دن بھی امریکی فوج اور شیعہ ملیشیا کے کارکنوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔

تیس دن کے عام معافی کے تحت چھوٹے ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد رکھنا اور مزاحمت کرنیوالوں کی مالی مدد کرنا جیسے معمولی جرائم شامل ہیں۔تاہم قتل، ڈکیتی، لوٹ مار اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں پر اس معافی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ ایاد علاوی کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے لوگوں کو قومی دھارے میں پھر سے شامل ہونے کا موقع ملے گا۔

عام معافی کے بارے میں عراق کی عبوری حکومت گذشتہ جون سے ہی غور کررہی تھی۔

سنیچر کے روز عراق کی عبوری حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ عربی ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کو بغداد میں ایک ماہ کے لئے اپنا دفتر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ الجزیرہ کے صحافی عراق کے دیگر شہروں میں اب بھی کام کرتے رہیں گے۔ ایاد علاوی نے الجزیرہ پر عراق میں نفرت اور فرقہ وارنہ تشدد پھیلانے کا بھی الزام لگایا۔

عراقی وزیراعظم نے نجف میں جاری لڑائی کے بارے میں کہا کہ حالات اب کنٹرول میں ہیں تاہم انہوں نے اسے افسوسناک قرار دیا۔ علاوی نے کہا کہ تقریباً بارہ سو جرائم پیشہ لوگ اور صدام حسین کے وفادار نجف میں گرفتار کیے گئے ہیں اور ان سے تفتیش جاری ہے۔

انہوں نے اس شک کا اظہار کیا کہ تشدد کے ذمہ دار لوگوں کا تعلق مقتدیٰ الصدر سے ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں شیعہ رہنما کی طرف سے مثبت پیغام ملا ہے اور وہ اب بھی انہیں اگلے سال انتخابات میں حصہ لینے کے لئے دعوت دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نجف میں حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی ہنگامی قانون نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نجف میں تازہ تشدد کے تیسرے دن امریکی افواج اور ملیشیا کے درمیان لڑائی گزشتہ دو دنوں سے نسبتاً کم تھی۔

ہفتے کی صبح نجف کے گورنر کی طرف سے مقتدی الصدر کے حامیوں کو نجف شہر سے چوبیس گھنٹے کے اندر نکل جانے کا وقت بھی ختم ہو گیا۔ لیکن اس کے باوجود مقتدی الصدر کے مسلح حامی شہر کی سڑکوں پر گشت کر رہے تھے اور امریکی فوج نے شہر کو محاصرے میں لیا ہوا تھا۔

دریں اثناء عراق میں شدت پسند تنظیموں کی طرف سے ایک امریکی یرغمالی کا سر قلم کرنے کی خبر جھوٹی نکلی ۔ امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق وڈیو میں جس امریکی بزنس مین کا سر قلم گیا تھا اس نے اے پی کو بتایا کہ اس نےسارا ڈھونگ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کیا۔

بائیس سالہ بینجمن ونڈرفورڈ نے کہا کہ اس نے یہ وڈیو مہینوں پہلے انٹرنیٹ پر جاری کر دی تھی۔اور اس کے مقاصد میں ایک یہ بھی تھا کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ اس طرح کی وڈیو فلم کتنی آسانی سے بنائی جا سکتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد