سرقلم کرنے کی خبر جھوٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں شدت پسند تنظیموں کی طرف سے ایک امریکی یرغمالی کا سر قلم کرنے کی خبر جھوٹی نکلی ۔ امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق وڈیو میں جس امریکی بزنس مین کا سر قلم گیا تھا اس نے اے پی کو بتایا کہ اس نےسارا ڈھونگ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کیا۔ بائیس سالہ بینجمن ونڈرفورڈ نے بتایا کہ اس نے یہ وڈیو کیلفورنیا میں اپنے ایک دوست کےگھر میں بنائی تھی ۔ اور اس میں نظر آنے والا خون بھی نقلی تھا۔ بینجمن ونڈرفورڈ نے کہا کہ اس نے یہ وڈیو مہینوں پہلے انٹرنیٹ پر جاری کر دی تھی۔اور اس کے مقاصد میں ایک یہ بھی تھا کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ اس طرح کی وڈیو فلم کتنی آسانی سے بنائی جا سکتی ہیں۔ ویب سائٹس پر جو وڈیو فلم ریلیز کی گئی تھی اس میں ایک امریکی بزنس مین کو دکھایا گیا تھا۔ وڈیو میں سر قلم کرنے سے پہلے اس یرغمالی کو ایک تحریر پڑھنے کو دی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی عراق چھوڑ دیں یا پھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ یرغمالی کی ہلاکت کی اس فلم میں کسی شدت پسند کو نہیں دکھایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||