BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 August, 2004, 22:14 GMT 03:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیستانی علاج کے لیےلندن پہنچ گئے
عراق میں گزشتہ دنوں میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
سیستانی ایسے وقت لندن پہنچ رہے ہیں جب نجف میں لڑائی جاری ہے
عراق میں شیعہ فرقے کے روحانی پیشواآیت اللہ سیستانی جمعے کی سہ پہر لندن کے ہیتھ رو ہوائی اڈے پر پہنچے۔

بتایا گیا ہے کہ وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور علا ج کی غرض سے لندن آۓ ہیں۔ ہوائی جہاز سے وہ خود پیدل چلتے ہوۓ کار میں سوار ہوۓ ۔

آیت اللہ سیستانی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی لندن آمد بالکل نجی ہے، ان کو ایک نجی قیام گاہ میں لے جایا گیا ہے جہاں وہ آرام کررہے ہیں۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران میں شیعہ گروپوں اور مختلف لوگوں نے ان کی بیماری کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بتائی ہیں لیکن لندن میں ان کے رابطہ دفتر، امام علی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ جب تک ڈاکٹر ان کا معائنہ نہ کرلیں اس وقت تک ہر راۓ قبل از وقت ہوگی۔

آیت اللہ سیستانی کی عمر تہتر سال ہے ۔ وہ ایران میں پیدا ہوۓ تھے لیکن ان کا مستقل قیام نجف اشرف میں ہے۔

لندن میں سکول آف اوریئنٹل اینڈ ایفریکن سٹڈیز ( سو ایس) کے چارلس ٹرپ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران میں انہوں نے بہت باوقار سیاسی شخصیت کا منصب حاصل کرلیا ہے۔

’ان کا نقطۂ نظر عام علماء دین سے جداگانہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عالم اور روحانی پیشوا کو روز مرہ کی سیاست میں عملی حصہ نہیں لینا چاہۓ۔ شیعہ عقیدہ کے ماننے والوں کے لۓ وہ ایسے بزرگ اور لائق احترام شخص ہیں جن کے دل میں پوری برادری کا درد ہے اور جو اس برادری کے مفاد کو عزیز تر سمجھتے ہیں۔‘

لندن میں امام علی فاؤنڈیشن نے اس خیال کی تردید کی ہے کہ نجف اشرف سے ان کی روانگی کا کسی طرح کا تعلق اس شہر میں موجودہ شورش سے ہے اور کہا ہے کہ ان کی روانگی کے انتظامات کئ دن پہلے کر لۓ گۓ تھے۔

آیت اللہ کے حامی کہتے ہیں کہ سیستانی ایسے آدمی نہیں ہیں جو خطرات سے ڈر کے باہر نکل جائیں کیونکہ ان کے گھر پہ کئی بار حملے ہوۓ تھے اس کے باجود انہوں نے نجف کو نہیں چھوڑا تھا۔

آیت اللہ سیستانی کے حامی بھی اور حکومت برطانیہ نے بھی خاص طور سے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی لندن آمد بالکل نجی ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ آیت اللہ اور برطانوی حکام کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد