نجف میں جنگ بندی کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تشدد کی ایک اور لہر کے بعد مقتدیٰ الصدر نے نجف میں جنگ بندی کی بحالی کی اپیل کی ہے۔ جمعرات کے روز مقتدی الصدر کے حامیوں نے ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا ہے جس میں دو امریکی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کا یہ واقعہ امریکی فوج اور عراق سکیورٹی فورسز کی مقتدی الصدر کے حامیوں سے شدید جھڑپوں کے دوران پیش آیا۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کے دفتر کے جاری ہونے والے ایک بیان سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ جون میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہیں۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے عملے کو بچا کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔ جنوبی شہر بصرہ میں بھی مقتدہ الصدر کے حامیوں نے اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد برطانوی فوج کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم غیر ملکی فوج کے خلاف جہاد کریں گے، پولیس یا عراقی فوج کے خلاف نہیں‘۔ نجف شہر کے گردونواح سے مشین گن اور ماٹر بموں کے چلنے کی آوازیں سنی گئیں اور امریکی ہیلی کاپٹروں نے بھی علاقے میں بمباری کی۔ امریکی فوج کے حکام نے بتایا ہے کہ نجف کے گورنر نے اس وقت فوجی مدد طلب کی جب نجف کے ایک پولیس اسٹیشن پر عراقی ملیشیا نے راکٹوں اور مشین گنوں سے فائرنگ شروع کردی۔ دریں اثنا بغداد سے ستر کلو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر المحاويل میں ایک کار بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک خود کش حملہ آور ایک گاڑی کو پولیس کی عمارت تک لے گیا اور اس کو دھماکے سے اڑا دیا۔ عراقی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس حملے میں بیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ عراق میں مزاحمت کاروں نے حالیہ دنوں میں تھانوں اور پولیس کی دیگر عمارتوں کو خودکش حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ ہفتے بعقوبہ میں ایک بڑے خودکش حملے میں ستر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||