عراق: احمد چلابی کا گرفتاری وارنٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ایک جج نے عراق کی گورننگ کونسل کے سابق رکن احمد چلابی کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے ہیں۔ انہیں جعلی کرنی چھاپنے کے الزام میں مطلوب بتایا گیا ہے۔ احمد چلابی کے علاوے ان کے بھتیجے صالم چلابی کے بھی گرفتاری وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ صالم چلابی اس ٹریبونل کے جو عراق کے معزول صدر کے خلاف مقدمے کی سماعت کر رہا ہے اور بتایا گیا ہے کہ قتل کے ایک مقدمے میں مطلوب ہیں۔ احمد اور سالم چلابی دونوں ہی عراق سے باہر ہیں ان کے ایک ترجمان نے سی این این سے ان وارنٹوں پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بنیاد سیاسی عوامل کو قرار دیا۔ یہ وارنٹ عراق کے جج ظہیرالمالکی نے جاری کیے ہیں۔ احمد چلابی کچھ عرصہ پہلے تک امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی پسندیدہ شخصیت اور نمائندے تھے جن کو صدام کے بعد عراق کی باگ ڈور سونپنے کے لیے سامنے لایا گیا تھا۔ تاہم جیسے ہی ان کا مبینہ طور پر ایرانی شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات ہوئے وہ امریکہ کی نظر سے اتر گئے۔ ایرانی دارالحکومت تہران سے دیے گئے ایک انٹرویو میں چلابی نے کہا ہے کہ انہیں ہنوز ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی لیکن یہ کہ وہ ان مبینہ الزاموں کو مسترد کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ جج المالکی نے ریڈیو ساوس کے توسط سے مزید یہ کہا ہے کہ حمد اور صالم چلابی کو پہلے گرفتار کیا جائے گا اور پوچھ گچھ کے بعد اگر ثبوت ملے تو ان پر باضابطہ مقدمہ چلایا جائیگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وارنٹ احمد چلابی کو عراقی اقتدار سے مزید دور رکھنے کا اک تازہ ترین اشارہ ہے۔ پنٹاگون نے صدام حکصمت کے خاتمے کے بعد جن لوگوں کو جلاوطنی ختم کرانے کے بعد واپس عراق واپس بھیجا تھا ان میں چلابی اولین لوگوں میں تھے لیکن امریکہ کی ناراضگی کے بعد ان پر طرح طرح کے الزام لگائے گئے۔ ان کے گھر اور مرکزی دفتر پر بھی چھاپے مارے گئے۔ امریکی حکام نے چلابی کی پارٹی عراقی نیشنل کانگریس کو دیےجانے والی ماہانہ امدادی رقم ( تین لاکھ پاؤنڈ) کو بھی روکنے کا حکم بھی دے دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||