احمد چلابی امریکی چھاپے پر ناراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں امریکی فوج نے عراق کے ایک سینیئر رہنما احمد چلابی کی پارٹی کے صدردفاتر پر چھاپہ مارا ہے۔ احمد چلابی جو جلا وطن بھی رہ چکے ہیں- عراق کی ایک بڑی سیاسی پارٹی عراقی نیشنل کانگرس کے سربراہ اور امریکی حمایت سے قائم حکمراں عبوری انتظامی کونسل کے ایک سینیئر رکن ہیں۔ احمد چلابی نے چھاپے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکہ اپنے دوستوں کے خلاف ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بڑی مشکل میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس اور امریکی فوجیوں نے احمد چلابی کی رہائش گاہ اور ان کی پارٹی کے دفاتر پر چھاپہ مارا اور وہاں سے کمپیوٹر، دوسرا سازوسامان اور فائلیں اٹھا لے گئے۔ فوج پارٹی کے دو ارکان کو بھی گرفتار کرنا چاہتی تھی مگر احمد چلابی نے بتایا کہ وہ موجود نہیں ہیں۔ عینی شاہدوں کے مطابق احمد چلابی کے عملے کے کچھ ارکان کو فوجی ہمراہ لے گئے ہیں۔ فوج کی طرف سے اس چھاپے پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ ایک وقت تھا جب احمد چلابی پینٹاگون کے دست راست سمجھے جاتے تھے۔ تاہم کچھ عرصے سے وہ اقتدار کی منتقلی کے منصوبے پر کھلم کھلا تنقید کرنے لگے ہیں۔ پینٹاگون نے اسی ہفتے ان کی سیاسی پارٹی کے لئےتین لاکھ چالیس ہزار ڈالر ماہانہ فنڈ روک دینے کا اعلان کیا۔ جو انہیں انٹیلیجنس کی معلومات فراہم کرنے کے لئے دئیے جاتے تھے کیونکہ اب سی آئی اے ان کی خدمات سے عدم اطمینان کا اظہار کرنے لگا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||