| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ جون تک اقتدار چھوڑ دےگا
عراقی حکمران کونسل نے جون تک اقتدار کی منتقلی اور ایک عبوری حکومت کے قیام کا لائحہ عمل پیش کیا ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت آئندہ جون تک امریکی فوج سے اقتدار ایک عبوری عراقی انتظامیہ کو منتقل کیا جائے گا اور ایک خود مختار عراقی حکومت کا قیام عام انتخابات کے بعد دو ہزار پانچ تک مکمل کیا جائےگا۔ اس سے قبل عراق کے امریکی منتظم پال بریمر نے عراقی کونسل کے اراکین سے اقتدار کی منتقلی کے متعلق بات چیت کی تھی۔
امریکی ذرائع ابلاغ نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا کہ پال بریمر نے گزشتہ جمعہ کو اقتدار کی منتقلی کی رفتار کو تیز کرنے کی تجویز پر عراق کی گورنگ کونسل کے ارکان کو اعتماد میں لیا۔ گورنگ کونسل نے اس تجویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ گورنگ کونسل سے بات چیت کرنے کے بعد پال بریمر واشنگٹن چلے گئے تھے جہاں انہوں نے اس تبدیل شدہ لائحہ عمل پر بات کی۔ اس لائحہ عمل کے مطابق عراق میں پہلے ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی جو آئین ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کرائے گی ۔ آئین کی تشکیل کے بعد وہاں قومی الیکشن منعقد کرائے جائیں گے۔ عراق کی گورنگ کونسل کے راکن احمد چلابی نے اسے ایک خوش کن خبر قرار دیا۔ پال بریمر سے ملاقات کے بعد احمد چلابی نے کہا کہ اقتدار کی منتقلی کے بعد امریکی فوج عراق میں رہے گی لیکن اس کی نوعیت قابض فوج سے تبدیل ہو جائےگی اور وہ مہمان فوج کے طور پر عراق میں رہے گی۔ اکثریتی شیعہ فرقے کے لوگ بھی اس نئے منصوبے سے مطمئن ہیں ۔ شیعہ رہنما آیت اللہ علی سیستانی نے اس سلسلے میں ایک فتوی جاری کیا ہے کہ عراق کے آئین کی تشکیل کا کام عراقی عوام کے منتخب نمائندوں کو کرنا چاہیے نہ کہ چوبیس رکنی امریکی نامذد کردہ کمیٹی کو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||