امریکہ چلابی سے کیوں ناراض ہوا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سابق امریکی اتحادی اور عراق میں گورننگ کونسل کے سابق سربراہ احمد چلابی نے ایران کو یہ اطلاع فراہم کر دی تھی کہ امریکیوں نے وہ خفیہ اشارے ’کوڈ‘ توڑ لیے ہیں جو تہران کا جاسوسی نیٹ ورک استعمال کرتا ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ احمد چلابی نے ایرانی خفیہ ادارے کے سربراہ کو اس بارے میں بغداد میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران آگاہ کیا تھا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس اطلاع کا افشا بھی ان وجوہ میں شامل تھا جن کی بناء پر احمد چلابی واشنگٹن کے عتاب کا نشانہ بنے۔ احمد چلابی نے اس چھاپے پر انتہائی ناراضگی کا اظہار کیا تھا کیونکہ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو عراق پر امریکی قبضے کے بعد جلاوطنی ختم کر کے سب سے پہلے واپس عراق پہنچے تھے تاہم آہستہ آہستہ امریکہ اور چلابی کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان فاصلوں کا آغاز ان اطلاعات ہی کی بنا پر ہوا کہ احمد چلابی ان لوگوں سے قریب ہیں جنہیں امریکہ انتہا پسند قرار دیتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون احمد چلابی کی پارٹی کو ہر ماہ تین لاکھ پینتیس ہزار ڈالر ’خفیہ اطلاعات کے حصول کا پروگرام‘ کے تحت فراہم کرتی تھی تاہم گزشتہ ماہ سے اس رقم کی فراہمی بند کر دی گئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ احمد چلابی کو واشنگٹن عراق کے متبادل رہنما کے طور پر پیش کر رہا تھا لیکن بعد میں یہ تعلقات اتنے خراب ہو گئے کہ احمد چلابی کے دفتر اور گھر تک پر چھاپے مارے گئے جس میں عراقی پولیس کے علاوہ امریکی فوجی بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||