احمد چلابی کا عروج سے زوال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس آدمی کا اچانک زوال سب کے لیے حیرانی کا باعث بنا ہوا ہے جسے واشنگٹن عراق کے متبادل رہنما کے طور پر آگے لا رہا تھا۔ متنازع رہنما احمد چلابی کے گھر اور دفاتر پر جمعرات کو چھاپوں کی کارروائی عراقی گورننگ کونسل کے ارکان کے لیے ایک شدید دھچکہ ثابت ہوئی ہے۔ احمد چلابی نے ان چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چھاپے سیاسی مقاصد کے تحت مارے گئے اور ان میں امریکی ایجنٹ اور عراقی پولیس کے ارکان شامل تھے۔ ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ احمد چلابی اور ان کے ساتھیوں پر کیا الزام ہے یا ان سے کیا جرم سرزد ہوا ہے اور نہ ہی امریکی اہلکار بر سرِعام اس کارروائی پر کوئی تبصرہ کر رہے ہیں کہ احمد چلابی کے گھر اور دفاتر پر چھاپے کیوں مارے گئے۔ امریکی البتہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ چھاپے عراقی پولیس نے مارے اور ان چھاپوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم درپردہ ان کا کہنا ہے کہ احمد چلابی خود تو نہیں لیکن ان کی عراقی گورننگ کونسل کے بعض ارکان اغوا، تشدد، بدعنوانیوں اور حکومتی اثاثوں کے ناروا استعمال میں ملوث ہیں۔ ان میں سے آخری الزام کا تعلق کونسل کے ایک رکن سے ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وزارتِ خزانہ کی گاڑیوں کی مبینہ چوری میں ملوث تھے۔ تاہم اس کے علاوہ کشا کش ایک ایسی دستاویز کے بارے میں بھی بتائی جاتی ہے جو کانگریس کی تحویل میں ہے اور جس کا تعلق اقوام متحدہ کے پروگرام ’تیل کے بدلے خوراک‘ کے مالیاتی سکینڈل سے ہے۔
اس کا علاوے درپردہ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ کونسل کے ارکان نے احمد چلابی یا ان کے کسی اہلکار نے انتہائی حساس امریکی خفیہ اطلاعات ایران کو فراہم کی ہیں۔ یہ الزام سب سے پہلے نیوز ویک میں شائع ہوا اور اس کے بعد اس بارے میں ایک رپورٹ امریکی ٹیلی ویژن چینل سے جاری کی گئی۔ ان سب کے جواب میں احمد چلابی کا صرف یہ کہنا ہے امریکی ان کے خلاف صرف اس لیے ہو گئے ہیں کہ وہ عراق کو اقتدار کی منتقلی کے ان امریکی منصوبوں پر شدید تنقید کر رہے ہیں جو اسی سال جون کے آخر میں متوقع ہے۔ احمد چلابی کہتے ہیں کہ امریکیوں کے منصوبے کے بر خلاف عراق کو اقتدار کی جزوی نہیں مکمل منتقلی ہونی چاہیے اور عراقیوں کو اپنے معاملات خود نمٹانے کی مکمل خودمختاری حاصل ہونی چاہیے۔ انہیں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کے خصوصی نمائندہ برائے عراق، لخدار براہیمی کے عبوری انتظامیہ کے منصوبے پر بھی شدید اعتراص ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||