BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 May, 2004, 04:46 GMT 09:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم عراقی قانون کے تابع نہیں ہوں گے‘
News image
عراق میں موجود اتحادی فوجیں چاہتی ہیں کہ جب عراقیوں کو اقتدار کی منتقلی ہو جائے تو عراقی قانون کے تحت ان پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ نہ چلایا جا سکے۔

محدود پیمانے پر ہی سہی لیکن جب عراق کو خود مختاری ملے گی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اتحادی فوجیں بھی عراقی قانون کے ماتحت آ جائیں گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کی فوجیں چاہتی ہیں کہ عراق میں انتقالِ اقتدار کے بعد وہ اپنے ہی دائرہ اختیار میں رہیں نہ کہ عراقی قانون کے ماتحت۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ عراق میں اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی نئی قرارداد کے لئے مذاکرات اس وقت انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

اگلے چند ہفتوں میں اس بات پر معاہدہ ہونا ہے کہ تیس جون تک عراق کو خود مختار بنا دیا جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک بار جب عراق میں عراقی قانون کا نفاذ ہوجائے گا تو اتحادی فوجی کس کے ماتحت رہیں گے: امریکی اور برطانوی قانون کے تحت یا پھر عراقی قانون کے تحت۔

اگر انہیں عراقی قانون سے مامونیت دی گئی تو یہ مسئلہ متنازعہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت جب اتحادی فوج پر عراقیوں کے ساتھ بد سلوکی کرنے کے الزام ہیں۔

بظاہر امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں اس کوشش میں ہیں کہ عراق میں انتقالِ اقتدار کے بعد ان کی فوجوں پر ان کا ہی قانون چلے نہ کہ عراق کا۔

اکتوبر سترہ کو جاری ہونے والے ایک آرڈر کے تحت اتحادی فوجوں پر مقدمات نہیں چلائے جا سکتے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد