’ہم عراقی قانون کے تابع نہیں ہوں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں موجود اتحادی فوجیں چاہتی ہیں کہ جب عراقیوں کو اقتدار کی منتقلی ہو جائے تو عراقی قانون کے تحت ان پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ نہ چلایا جا سکے۔ محدود پیمانے پر ہی سہی لیکن جب عراق کو خود مختاری ملے گی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اتحادی فوجیں بھی عراقی قانون کے ماتحت آ جائیں گی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کی فوجیں چاہتی ہیں کہ عراق میں انتقالِ اقتدار کے بعد وہ اپنے ہی دائرہ اختیار میں رہیں نہ کہ عراقی قانون کے ماتحت۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ عراق میں اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی نئی قرارداد کے لئے مذاکرات اس وقت انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اگلے چند ہفتوں میں اس بات پر معاہدہ ہونا ہے کہ تیس جون تک عراق کو خود مختار بنا دیا جائے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک بار جب عراق میں عراقی قانون کا نفاذ ہوجائے گا تو اتحادی فوجی کس کے ماتحت رہیں گے: امریکی اور برطانوی قانون کے تحت یا پھر عراقی قانون کے تحت۔ اگر انہیں عراقی قانون سے مامونیت دی گئی تو یہ مسئلہ متنازعہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت جب اتحادی فوج پر عراقیوں کے ساتھ بد سلوکی کرنے کے الزام ہیں۔ بظاہر امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں اس کوشش میں ہیں کہ عراق میں انتقالِ اقتدار کے بعد ان کی فوجوں پر ان کا ہی قانون چلے نہ کہ عراق کا۔ اکتوبر سترہ کو جاری ہونے والے ایک آرڈر کے تحت اتحادی فوجوں پر مقدمات نہیں چلائے جا سکتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||