BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 August, 2004, 18:44 GMT 23:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پولینڈ کی فوج کی دستبرداری
پولینڈ کی فوج دو صوبوں سے دستبردار
پولینڈ کی فوج دو صوبوں سے دستبردار
بغداد کے جنوبی حصے میں تعینات پولینڈ کی قیادت میں کثیرالقومی فوج نے عراقی مزاحمت کاروں کی کارروائیوں میں زبردست اضافے کی بنا پر دو صوبوں کا کنٹرول امریکی فوج کے حوالے کر دیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نجف میں امریکی فوج اور مقتدی الصدر کی ملیشیا میں بدترین لڑائی جاری ہے۔

بغداد کے علاقے صدر شہر میں عراقی عبوری حکومت نے سولہ گھنٹے کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ اسی دوران بصرہ میں برطانوی فوج اور مقتدی الصدر کے حامیوں میں جھڑپوں میں ایک برطانوی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔

پولینڈ کی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نجف اور قدیسیہ صوبوں کا کنٹرول واپس امریکی فوج کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی جنرل جارج کیسے نے ان صوبوں کا کنٹرول واپس امریکی فوج کے حوالے کرنے کو کہا تھا۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عراق سے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک نجف کے مقدس شہر کا دفاع کریں گے۔

مقتدی الصدر نے بات چیت کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں کہا کہ نجف اشرف پر بم گرائے جا رہے ہیں وہ ایسی صورت حال میں امریکی فوج سے بات چیت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ قبضہ اور امن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اور نہ ہی لڑائی اور مذاکرات ساتھ ساتھ ہو سکتے ہیں۔

نجف میں مسلسل پانچ روز سے امریکی فوج اور عراقی شیعہ رہنما مقتدی الصدر کی حامی فوج میں زبردست لڑائی ہو رہی ہے۔

مقتدی الصدر نے عراقی حکومت کی طرف سےنجف سے نکل جانے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔

دریں اثناء جنوبی عراق میں تیل نکالنے کا کام معطل کر دیا گیا ہے۔

ساوتھ آئل کمپنی کے ایک اعلی اہلکار نے امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ عراق کے جنوب میں بصرہ کے قریب واقع تیل کے کنوؤں سے تیل نکالنے کا کام مقتدی الصدر کی حامی ملیشیا کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔

عراق کے تیل کی وزارت کے ایک ترجمان نے ان اطلاعات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تیل کی تنصیبات پر حملے سے صرف اور صرف عراقی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

عراق کی نوے فیصد تیل کی برآمدات تقریباً بیس لاکھ بیرل یومیہ تیل کی ترسیل بصرہ کے علاقے سے کی جاتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس علاقے میں تیل کی تنصیبات کے بند کیے جانے سے عراق کی تعمیر نو کا کام بری طرح متاثر ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد