کامیابی کا دعویٰ مگر لڑائی جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شہر نجف میں امریکی فوج اور شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کی حامیوں کے مابین لڑائی کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری رہا۔ اطلاعات کے مطابق حضرت علی کے روضے کے ملحقہ قبرستان کے گرد زبردست لڑائی ہو رہی ہے۔ پیر کے روز بھی اسی علاقے میں گھمسان کی لڑائی ہوئی تھی۔ مقتدیٰ الصدر پہلے ہتھیار ڈالنے اور نجف سے نکل جانے سے متعلق عراقی حکومت کی اپیلوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ بغداد میں امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’دشمن فوج‘ کے حملوں کی وجہ سے زخمیوں کو نکالنے کے لیے نجف میں چوبیس گھنٹے کی جنگ بندی اپنی افادیت کھو چکی ہے۔ صدر بش نے دعویٰ کیا ہے کہ شدید لڑائی کے باوجود امریکی فوجوں نے نجف میں اپنی پوزیشن مستحکم بنانے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ مقتدیٰ الصدر کو قتل کرنے یا گرفتار کرنے سے متعلق امریکی پالیسی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ امریکی پالیسی یہ ہے کہ عراقی وزیر اعظم ایاد علاوی کے ساتھ مل کر کام کیا جائے اور ملک میں حالات کو انتخابات کے لیے سازگار بنایا جائے۔ صدر بش نے پولینڈ کے وزیر اعظم ماریک بیلکا سے ملاقات کے بعد عراق میں فوجی خدمات پر پولینڈ کو خراج تحسین پیش کیا۔ دریں اثنا عراق کے دارالحکومت بغداد میں کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بظاہر یہ دھماکے مارٹر گولے اور راکٹ داغے جانے کی وجہ سے ہوئے ہیں اور ان کی آوازیں ان ہوٹلوں کے قریب ہوئے ہیں جہاں غیر ملکی قیام کرتے ہیں۔ پیر روز بصرہ میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے ہاتھوں برطانوی فوجی کی ہلاکت کے بعد فوج کو ہائی الرٹ پوزیشن کا اعلان کر دیا گیا ہے جبکہ بغداد کے صدر سٹی کے علاقے میں شدید جھڑپوں کے بعد سولہ گھنٹے کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد بصرہ کے قریب واقع کنوؤں سے تیل نکالنے کا کام روک دیا گیا ہے۔ عراقی مزاحمت کاروں کی طرف سے دو اردنی اور دو لبنانی ڈرائیوروں کو رہا کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||