BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 August, 2004, 01:25 GMT 06:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوا سال میں سب سے خونی جنگ
نجف میں شدید لڑائی
مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور عراقی نیشنل گارڈ کے دستوں کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی ہے
نجف اشرف میں فائر بندی کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد یہ سب سے خونی جنگ بنتی جارہی ہے۔

بغدادمیں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ جنگ یا تو امریکیوں کے خلاف شیعوں کی بڑی شورش، ایک بغاوت کی شکل اختیار کرسکتی ہے ورنہ امریکی فوجوں کی وہ زبردست کارروائی ثابت ہوسکتی ہے جس کے ریلے میں مقتدیٰ الصدر کی فوج یہاں سے بے دخل ہو جاۓ۔

امریکی میرین فوج، جس نے حال میں اس علاقے کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے کہتی ہے کہ اس نے تین سو کے قریب مزاحمت کرنے والوں کو ہلاک کیا ہے جبکہ نجف کے گورنر نے یہ تعداد چار سو بتائی ہے۔

دھواں
شہر کے مختلف حصوں میں امریکی بمباری بعد دھوائیں کے بادل اٹھتے ہوئے کھائی دیئے
مایوسوں اور بے سہاروں کو حوصلہ دلانے والے نوجوان رہنما مقتدیٰ الصدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے صرف چھتیس حامی ہلاک ہوۓ ہیں۔ دونوں جانب کے اعدادو شمار کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔

یہ جنگ جس نے جمعرات کو جنگ بندی کا شیرازہ بکھیر دیا تھا اب بغداد میں شیعوں کے گڑھ یعنی صدر شہر کے علاوہ امارہ، بصرہ، ناصریہ، اور سمارہ تک پھیل چکی ہے۔

امریکی قیادت میں لڑنے والی فوج اور عراق کی عبوری حکومت اس خونریزی کا ذمہ دار مقتدیٰ الصدر کوٹھہراتے ہیں جبکہ ان کے ترجمان نے امریکیوں کو مورد الزام قرار دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لۓ تیار ہیں بشرطیکہ مخالف فریق صورت احوال کو اسی جگہ پر واپس لے آۓ جیسی جنگ بندی سے پہلے تھی۔

نجف میں اپریل اور مئی میں جب پہلا معرکہ ہوا تھا جس میں سینکڑوں مارے گۓ تھے اس کے بعد اس طرح مصالحت ہو گئی تھی کہ امریکی فوجیں شہر سے باہر چلی گئی تھیں ۔ اس بعد نسبتاً امن و امان رہا حتیٰ کہ اس ہفتے یہ شورش پھر بھڑک اٹھی۔

نجف کے گورنر نے مقتدیٰ الصدر کے حامیوں سے کہا ہے کہ چوبیس گھنٹے میں شہر چھوڑ دیں ورنہ ان پر امریکیوں کی یلغار جاری رہے گی۔

فی الحال ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذاکرات اور صلح کا وقت جاتا رہا ہے اور صرف خون خرابے کا دور دورہ ہے۔ مقتدیٰ الصدر نے اقوام متحدہ سے مداخلت کے لئے کہا ہے۔

کوفی عنان اس ہفتے کے شروع میں کہہ چکے ہیں کہ اقوام متحدہ عراق میں امریکی حفاظت میں واپس جاۓ گی۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدر براہیمی کے ترجمان احمد فوزی سے مقتدیٰ الصدر کی درخواست کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اقوام متحدہ مداخلت کرے گی؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم اس درخواست پر بہت سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے۔

’ہم نے عراق میں اپنے دوستوں کو شروع ہی سے یہ مشورہ دیا ہے کہ مزاحمت کو سیاسی عمل میں ڈھالا جاۓ ۔ صرف اس طرح عراق میں امن قائم ہو سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد