مقتدیٰ الصدر لڑائی کے خاتمے پر ’تیار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مہدی ملیشیا کو غیرمسلح کرنے اور نجف میں روضۂ علی چھوڑنے پر تیار ہوگئے ہیں۔ ترجمان نے دارالحکومت بغداد میں ہونیوالی کانفرنس میں مندوبین کو بتایا کہ نجف میں ہونیوالی مسلح مزاحمت کے خاتمے کے لئے عراقی حکومت کے مطالبات ماننے پر تیار ہیں۔ مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا اور امریکی افواج کے درمیان دو ہفتوں سے لڑائی جاری ہے۔ نجف میں لڑائی کے خاتمے کے لئے عراقی حکومت کے مطالبات ماننے کے بارے میں ایک خط کانفرنس کے مندوبین کو پڑھ کر سنائی گئی۔ کانفرنس کے انعقاد سے منسلک ایک خاتون نے مندوبین کو بتایا کہ انہیں یہ خط مقتدیٰ الصدر کی جانب سے ملا ہے جس میں انہوں نے کانفرنس کی تمام شرائط قبول کرلی ہیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ مقتدیٰ الصدر عام معافی کے بدلے میں عراق کے سیاسی عمل میں شامل ہونے پر بھی راضی ہوگئے ہیں۔ تاہم مقتدیٰ الصدر نے خود ابھی اس بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔ منگل کے روز انہوں نے کانفرنس کی جانب سے بھیجے جانیوالے وفد سے گفتگو کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ جو خط کانفرنس کو پڑھ کر سنایا گیا ہے اسے مقتدیٰ الصدر کی حمایت حاصل ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کئی وعدے حالیہ دنوں میں توڑے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||