عراق میں قومی اسمبلی منتخب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں ہونیوالی کانفرنس کے تیرہ سو سے زائد شرکاء نے بغیر کسی اختلاف کے ایک قومی اسمبلی کا انتخاب کرلیا ہے جو عراقی حکومت کے ساتھ ملکر جنوری کے عام انتخابات کے لئے کام کرے گی۔ قومی اسمبلی میں ایک سو نشستیں ہیں جن میں انیس عراقی گورننگ کونسل کے لئے مختص ہیں۔ باقی اکیاسی سیٹوں کے لئے ووٹنگ کی ضرورت نہیں پیش آئی اور کانفرنس کے شرکاء نے اسی فہرست کو منظوری دیدی جو عراقی حکومت نے پیش کی تھی۔ کانفرنس میں عراق کے مختلف علاقوں سے آنیوالے مذہبی، سیاسی اور قبائلی گروہوں کے سربراہوں نے حصہ لیا۔ یہ کانفرنس تین دن کے لئے بلائی گئی تھی لیکن چوتھے دن بھی جاری رہی۔ کانفرنس کا آخری دن اس لئے بھی دلچسپ رہا کہ مقتدیٰ الصدر کی جانب سے ایک خط پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے عام معافی کے بدلے اپنی ملیشیا کو مسلح کرنے، نجف میں روضۂ علی چھوڑنے اور عراق کے سیاسی عمل میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے دوران شرکاء نے کافی کھل کر بحث و مباحثے کیے لیکن آخر میں ایک ایسی قومی اسمبلی منتخب ہوئی جس کا انتخاب مندوبین نے نہیں کیا بلکہ حکومت کی فہرست کو ہی منظوری دی گئی۔ بعض مندوبین نے قومی اسمبلی کے انتخاب کو جمہوریت کی جانب پہلا قدم قرار دینے پر سخت احتجاج بھی کیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی تبھی سمجھی جائے گی جب مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا کے ارکان ہتھیار ڈال دیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||