BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 August, 2004, 06:54 GMT 11:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الصدر سےمفاہمت، وفد نجف پہنچ گیا
نجف میں شیعہ ملیشیا کے ارکان
نجف میں شیعہ ملیشیا کے ارکان
شیعہ ریڈیکل رہنما مقتدیٰ الصدر کے ساتھ مفاہمت کرانے کی غرض سے عراقی نیشنل کانفرنس میں شریک ہونیوالے رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد آج نجف جارہا ہے۔

ابتداء میں اعلان کیا گیا تھا کہ ایک ساٹھ رکنی وفد نجف جائے گا مگر اب سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر وفد کے ارکان کی تعداد آٹھ کر دی گئی۔

ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے ایک رشتہ دار اس وفد کی قیادت کریں گے۔

دارالحکومت بغداد میں منعقد ہونیوالی سہ روزہ کانفرنس کا آج آخری دن ہے اور امید کی جارہی ہے کہ نجف سے وفد کی واپسی پر وفد کے ارکان کانفرنس کے دیگر شرکاء کے ساتھ ایک قومی اسمبلی منتخب کریں گے۔

دریں اثناء مرکزی بغداد میں ہونیوالے ایک دھماکے میں کم سے کم چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکہ شہر کے الرشید ضلع میں ہوا اور یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی وجہ کار بم تھی یا مارٹر شیلنگ۔ اس دھماکے میں کم سے کم چوبیس افراد زخمی ہوگئے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ ابھی اس بات پر بھی قیاس آرائی جاری ہے کہ نجف جانیوالا وفد آج بغداد سے چل پڑے گا یا نہیں۔

آج کی کانفرنس میں منتخب کی جانیوالی قومی اسمبلی عراق کی عبوری حکومت کے ساتھ مل کر جنوری میں مجوزہ عام انتخابات کیلئے کام کرے گی۔

اس کانفرنس میں شریک عراق کے مختلف علاقوں سے آنیوالے تیرہ سو سے زائد مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے وفد بھیجنے کی تجویز کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وفد مقتدیٰ الصدر کے لئے مفاہمت کا ایک منصوبہ بھی لے جارہا ہے۔

نجف میں مقتدیٰ الصدر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وہ امن کے لئے کسی بھی کوشش پر غور کرنے کے لئے تیار ہیں۔ نجف میں پانچ اگست سے جاری کشیدگی بغداد میں ہونیوالی کانفرنس پر اثرانداز رہی ہے۔

گزشتہ اختتام ہفتہ کو مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور عراقی حکومت اور امریکی فوجیوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد نجف میں اکا دکا مسلح جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ پیر کی شب امریکی افواج روضۂ علی سے پانچ سو میٹر کی دوری پر تھے۔ شیعہ ملیشیا کے ارکان روضۂ علی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

شہر کی پولیس نے تمام صحافیوں کو نجف چھوڑ کر چلے جانے کا حکم دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس حکم کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ملیشیا کے ارکان پر بڑی فوجی کارروائی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

مقتدیٰ الصدر کے ترجمان شیخ احمد شیبانی نے کہا کہ وہ وفد کی آمد کے منتظر ہیں۔ شیبانی کا کہنا تھا: ’ایک پرامن حل کے لئے ہم کوئی بھی ثالثی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔‘ عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے اشرف جہانگیر قاضی نے کہا ہے کہ وہ نجف میں مفاہمت کرانے کے لئے تیار ہیں۔

بغداد میں ہونے والی کانفرنس میں شریک شیعہ رہنما شیخ حسین الصدر نے، جو کہ مقتدیٰ الصدر کے رشتہ دار ہیں، مقتدیٰ سے اپیل کی کہ وہ مہدی آرمی کو ایک سیاسی جماعت میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’تہذیب یافتہ ممالک میں مسلح ملیشیا کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔۔۔‘

مفاہمت کے لئے نجف بھیجنے کی شیخ حسین الصدر کی تجویز کی کانفرنس کے شرکاء ہاتھ اٹھاکر حمایت کی تھی۔ ان کے ایک مشیر نے کہا وفد مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا کو روضۂ علی چھوڑ کر چلے جانے پر راضی کرلے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد