’بات چیت کے لیے وفد نجف بھیجیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں ہونے والی قومی کانفرنس نے امریکی فوج اور مقتدی الصدر کے حامیوں میں جنگ بندی کرانے کے لیے ایک وفد نجف بھیجنے کی تجویز کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس قومی کانفرنس کے اجلاس میں نجف میں گیارہ روز سے جاری لڑائی بحث کا موضوع بنی رہی۔ یہ قومی کانفرنس ہی عراق کی عبوری کونسل کو منتخب کرے گی۔ عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندہ اشرف جاوید قاضی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ بھی مصلحت کرانے کے لیے تیار ہے۔ بغداد کے شیعہ رہنما شیخ حسین صدر نے کانفرنس کے دوران مہدی آرمی سے سیاسی عمل میں شمولیت اختیار کرنے کا بات کی۔ انہوں نےکہا کہ کسی بھی تہذیب یافتہ معاشرے میں مسلح ملیشیاؤں کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مقتدی الصدر کو مہدی آرمی کو سیاسی جماعت بنانے کے لیے رضامند کرنے کے لیے کوششیں کرنی چاہیں۔ شیخ حسین کی نجف میں مصالحت کرنے کے لیے ایک وفد بھیجنے کی تجویز کی کانفرنس کے شرکاء کی اکثریت نے حمایت کی۔ عراق کے سو سے زیادہ سیاسی اور مذہبی زعماء عبوری کونسل کے ارکان کو منتخب کرنے کے لیے اس قومی کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں۔ عراق کی عبوری حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مہدی ملیشیا کو غیر مسلح ہونا چاہیے اور نجف سے نکل جانا چاہیے۔ ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے ان دونوں باتوں کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مرتے دم تک لڑتے رہیں گے۔ پیر کے روز مقتدی الصدر کے ایک معتمدشيخ احمد الشيباني نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے تیار ہیں۔ شيخ احمد الشيباني نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اپنا دفاع کرنے اور امن دونوں کے لیے تیار ہیں۔ الشیبانی نے عراق بھر کے قبائلی سرداروں سے اپیل کی ہے کہ حضرت علی کے روضے کی حفاظت کے لیے انسانی ڈھال بنانے کے لیے وہ نجف اشرف پہنچ جائیں۔ الجزیرہ ٹی وی چینل سے انٹرویو میں انہوں نے کہا مہدی ملیشیا کو غیر مسلح کرنے کی بات سوچی بھی نہیں جا سکتی۔ نجف میں بہت سے شہریوں نے جو مقتدی الصدر کے حامی ہیں، شہر میں مورچہ بندی کر لی ہے۔ مقتدی الصدر کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے حضرت علی کے روضے میں پناہ لے رکھی ہے۔ حضرت علی کے روضے کے چاروں طرف مہدی ملیشیا کے مسلح حامی موجود ہیں۔ عراق کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عراقی اور امریکی فوج کو واضح احکامات جاری کر دیے ہیں کہ وہ حضرت علی کے روضے پر حملہ نہ کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||