BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 August, 2004, 07:55 GMT 12:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نجف میں دھماکے، بغداد میں اجلاس
حکومت نے نجف میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے
حکومت نے نجف میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے
عراق میں قومی اسمبلی کے انتخاب کے لئے عراق کے مختلف علاقوں سے تیرہ سو سے زائد مذہبی اور سیاسی رہنما دارالحکومت بغداد میں منعقد ہونیوالی ایک کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔

عراقی وزیراعظم ایاد علاوی نے اپنے خطاب میں اجلاس کو تاریخ ساز اور جمہوریت کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔ جیسے ہی کانفرنس شروع ہوئی پاس میں دھماکوں کی آواز سنائی دی اور کئی مندوبین یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ ’جب تک ’شیلنگ اور لڑائی جاری ہے ہم کانفرنس نہیں کرسکتے۔‘

ادھر نجف سے شہر میں دھماکوں اور گولیوں کے چلنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ شیعہ ملیشیا کے ارکان روضۂ علی کے ارد گرد گشت کررہے ہیں۔ نجف میں پولیس کے سربراہ نے تمام صحافیوں کو شہر چھوڑ کر چلے جانے کو کہا ہے۔ ملک کے جنوب میں ایک ڈچ فوجی مزاحمت کاروں کے حملے میں ہلاک ہوگیا۔

ایسے وقت جب نجف میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے ساتھ ہونیوالے عراقی حکومت کے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور حکومت نے ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کی بات کی ہے، کانفرنس کے منتظمین امید کررہے ہیں کہ یہ سہ روزہ کانفرنس پرامن رہے گا۔

اس کانفرنس کے لئے بغداد کی سڑکوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور بعض علاقوں میں دن کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ اتوار کو شروع ہونیوالے اس کانفرنس کے شرکاء میں پچیس فیصد خواتین ہیں۔

اس کانفرنس کے دوران ایک قومی اسمبلی منتخب کیے جانے کی امید ہے جس میں لگ بھگ ایک سو ارکان ہونگے۔ یہ اسمبلی آئندہ جنوری میں تجویز شدہ عام انتخابات کے انعقاد کے لئے حکومت کے ساتھ ایک پارلیمان کی حیثیت سے کام کرے گی۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار السٹیئر لیتھہیڈ کا کہنا ہے کہ سینکڑوں مندوبین عراقی دارالحکومت میں پہنچ چکے ہیں تاہم بعض عراقی گروہوں کی نمائندگی کرنیوالا کوئی نہیں ہے۔ یہ کانفرنس اقوام متحدہ کے سفارت کار لخدار براہیمی کی کوششوں کا نتیجہ ہے جو افغانستان میں لویا جرگہ کے قیام کے روح رواں تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس کانفرنس میں شرکت کے لئے مدعو کیے جانیوالے بعض عراقی رہنماؤں نے بغداد نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی بی سی کے تجزہ نگار راجر ہارڈی کے مطابق امید کی جارہی ہے کہ اس کانفرنس سے عراق کی موجودہ غیرمنتخب حکومت کو اخلاقی جواز فراہم ہوسکے گا۔

عراقی ذرائع کے مطابق مفاہمت کے لئے شیعہ ریڈیکل رہنما مقتدیٰ الصدر اور وزیراعظم ایاد علاوی کی حکومت کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات اس لئے بھی ناکام رہے تھے کیونکہ حکومت نے تجویزہ شدہ قومی اسمبلی میں مقتدیٰ الصدر کو ایک سے زائد نشست دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس کانفرنس میں مقتدیٰ الصدر کے حامی شرکت نہیں کررہے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے خدشات کے علاوہ کانفرنس کے منتظمین کے لئے ایک سردرد یہ بھی رہا ہے کہ عراق کے اٹھارہ صوبوں سے مندوبین کا انتخاب متنازعہ رہا ہے۔

گزشتہ کئی دنوں سے نجف اور دیگر شہروں میں لڑائی کے خاتمے کے لئے مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات کی ناکامی کے بعد عراقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ نجف کے روضۂ علی میں پناہ لینے والے شیعہ ملیشیا کے ارکان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرے گی۔

عراق میں قومی سلامتی کے مشیر موافق الربائی نے مذاکرات کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ مقتدیٰ الصدر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ عراق میں جمہوریت اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک امریکی فوج نجف پر قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس دوران سمارا اور فلوجہ میں متعدد افراد مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد