فتح یا موت: مقتدی الصدر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نجف میں امریکی فوج اور عراقی سکیورٹی فورسز سے برسرِ پیکار شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے جمعہ کو اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا عزم کیا ہے کہ یا تو وہ مقدس شہر کا دفاع کرتے ہوئے فتح حاصل کریں گے یا پھر اپنی جان دے دیں گے۔ نجف میں ایک ہفتے کی شدید لڑائی کے بعد جمعہ کو عارضی جنگ بندی کے دوران مقتدی الصدر نے اپنے حامیوں سے خطاب کیا اور عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کی حکومت کے مستعفی ہونے اور امریکی فوج کے شہر سے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ مقتدی الصدر نے جن کے ہاتھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی جمعہ کو حضرت علی کے روضے کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب میں عراق کی عبوری حکومت کو ’آمریت‘ قرار دیا اور اس کے مستعفی ہونے کا مطالبہ دہرایا۔ عراق میں امریکی فوجی حکام نے اعلان کیا ہے کہ الانبار کے صوبے میں اس کے دوفوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ ایک فوجی لڑائی میں جبکہ دوسرا ایک اور جھڑپ میں شدید زخمی ہوجانے کے باعث ہلاک ہو گیا ہے۔ فالوجہ اور رمادی الانبار صوبے میں آتے ہیں جہاں امریکی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنہ کرنا پڑا تھا۔ مقتدی الصدر جمعرات کو نجف شہر پر ہونے والی امریکی بمباری میں زخمی ہو گئے تھے۔ اس دوران امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے امید ظاہر کی ہے کہ بہت جلد نجف کے مسئلہ کا حل نکال لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مقتدی الصدر کے حامی قانون شکنوں کی طرح عمل کرنا بند نہیں کر دیتے امریکی فوج نجف شہر پر اپنا دباؤ برقرار رکھے گی۔ اس سے پہلے ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ وہ نجف سے اپنے حامیوں کو نکالنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ امریکی اور عراقی فوج بھی شہر سے نکل جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اور عراقی سکیورٹی فورسز کے انخلاء کے بعد شہر کا نظم و نسق معروف مذہبی افراد کے حوالے کر دیا جائے۔ دریں اثناء نجف میں لڑائی عارضی طور پر بند ہے اور حکومت اور مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ مقتدی الصدر کے تین علیحدہ علیحدہ زخم آئے تھے۔ لیکن دارالحکومت بغداد میں عراقی وزیر داخلہ فلاح النقیب نے کہا تھا کہ مقتدی الصدر زخمی نہیں ہوئے اور حکومت کے ساتھ مفاہمت کیلئے بات چیت کررہے ہیں۔ فریقین نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ مذاکرات جاری ہیں۔ مقتدیٰ الصدر کے ایک ترجمان نے کہا کہ رکاوٹ صرف یہ ہے کہ حکومت ان کے حامیوں کو غیرمسلح کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ نجف میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح ایسا لگتا ہے کہ شہر میں عارضی فائربندی پر اتفاق ہے تاکہ کچھ زخمیوں کو علاج کے لئے شہر سے باہر لایا جاسکے۔ جمعہ کو بصرہ سے برطانوی اخبار سنڈے ٹیلیگراف کے صحافی جیمس برینڈن کو رہا کر دیا گیا ہے ۔ صحافی جیمس برینڈن کو یرغمال بنانے کی جانب سے جاری کردہ ایک وڈیو ٹیپ میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی فوج نے چوبیس گھنٹوں کے اندر نجف نہیں چھوڑا تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ جمعہ کی صبح مقتدیٰ الصدر کے ایک نائب ایک مقامی ہسپتال گئے جس کے بعد ایمبولنسوں کا ایک کاررواں قدیم شہر میں داخل ہوا جہاں حضرت علی کا روضہ ہے۔ ترجمان کے مطابق زخمی ہونے سے قبل مقتدیٰ الصدر نے اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ اگر وہ ہلاک بھی ہوگئے تب بھی وہ لڑائی جاری رکھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مقتدی الصدر اپنے حمایتیوں کے ساتھ حضرت علی کے روضے میں پناہ لیے ہوئے ہیں تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔
ایک ستائیس سالہ عراقی فارس الحسینی نے ان کے زخمی ہونے کی اطلاع ملنے پر اپنا ردعمل اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا: ’وہ ہمارے لیڈر ہیں اور ہم ان کے بغیر راستہ کھو بیٹھیں گے جیسا کہ ہم ان کے والد کے وفات کے بعد ہمارے ساتھ ہوا تھا۔۔۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان کے زخم معمولی ہیں اور وہ بہت جلد اچھے ہوجائیں گے۔‘ اطلاعات کے مطابق لگ بھگ ایک ہزار جنگجو مقتدیٰ الصدر کے ساتھ ہیں۔ عراق کے وزیراعظم ایاد علاوی نے مقتدیٰ الصدر کے حامیوں سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ حضرت علی کا روضہ چھوڑ دیں۔ ایک ہفتے کی لڑائی کے بعد جمعرات کے روز امریکی اور عراقی فورسز نے نجف پر اپنے کنٹرول میں اضافہ کیا اور دن بھر امریکی افواج نے بمباری کی۔ اس فوجی آپریشن میں دو ہزار امریکی فوجی اور ایک ہزار آٹھ سو عراقی فوجی شامل ہیں جنہیں مقتدیٰ الصدر کے ایک ہزار مسلح حامیوں کا سامنا ہے۔ مقتدیٰ الصدر کے ایک مشیر نے عراقیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نجف میں لڑائی کے خلاف بغداد میں عراقی حکومت کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کریں۔ ایران اور عرب لیگ نے نجف میں ہونیوالی مسلح لڑائی کی مذمت کی ہے۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ امریکی فوجی روضۂ علی میں نہیں داخل ہونگے۔ عراقی وزیراعظم ایاد علاوی نے بھی کہا ہے کہ حضرت علی کے روضے پر فائرنگ نہیں کی جائے گی۔ تاہم امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ امریکی فوجیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں جوابی فائرنگ کی جاسکتی ہے۔ دریں اثناء عراقی شیعہ برادری کے سب سے بڑے مذہبی رہنما آیت اللہ علی سیستانی نے کہا ہے کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ حالات اتنے خراب ہونے والے ہیں تو وہ شہر چھوڑ کر نہیں جاتے۔ آیت اللہ ان دنوں علاج کے لئے لندن کے ایک ہسپتال میں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||