احمد چلابی: وارنٹ کے باوجود واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی سیاستدان احمد چلابی وارنٹوں کے بعد گرفتاری کا سامنا کرنے کے لیے ایران سے عراق واپس چلے گئے ہیں۔ احمد چلابی کی واپسی کے بارے میں عراقی نیشنل کانگرس کے ایک رکن حیدر الموسوی کا کہنا ہے کہ مسٹر چلابی گرفتاری سے بلکل خوفزدہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احمد چلابی عراق کے مستقبنل کے بارے میں اگلے اتوار کو ہونے والی عراقی سیاستدانوں کی کانفرنس میں شرکت کے خواہشمند ہیں۔ چند روز قبل عراق کے ایک جج نے ان کے ان کے ایک بھتیجے سالم چلابی کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ احمد چلابی اور سالم چلابی کے بارے میں کچھ عرصہ قبل یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ صدام حسین کے اقتدار سے علیحدگی کے بعد وہ عراقی حکمران ہوں اور انہیں عراقی گورننگ کونسل میں اہم ذمہ داری بھی دی گئی۔ احمد چلابی صدام دور حکومت میں جلا وطن ہو امریکہ چلے گئے تھے اور انہیں امریکہ کا سب سے بڑا حمایتی تصور کیا جاتا تھا۔ تاہم ان سے امریکی ناراضگی کا اندازہ اس وقت ہوا جب مئی میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ ان پر الزام لگایا کہ انہوں سرکاری املاک کی چوری کی ہے۔ جب کہ عراق میں امریکی انتظامیہ کے اہلکار نجی طور پر یہ کہتے ہیں کہ احمد چلابی نے امریکہ کو عراق میں وسیع تباہی پھیلانی والے ہتھیاروں کے بارے میں غلط اطلاعات فراہم کی تھیں جس کی وجہ سے بش انتظامیہ اور سی آئی اے کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر ایران کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کا بھی الزام ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||