حضرت علی کے روضے کا محاصرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی قیادت میں فوج نے نجف میں حضرت علی کے روضے کا محاصرہ کر لیا ہے جہاں شیعہ رہنماء مقتدی الصدر کے حامیوں نے مبینہ طور پر پناہ لے رکھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج مقتدی الصدر کے گھر میں گھس گئی ہے۔مقتدی الصدر گھر میں موجود نہیں تھے۔ امریکی زیر قیادت فوج کوحضرت علی کے روضے کا محاصرہ کرتے وقت سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی فوج کو، جسے ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل ہے، مقدس مقامات سے دور رکھا گیا ہے۔ عراق میں عبوری حکومت کے سربراہ ایاد علاوی نے مقتدی الصدر کے جانب سے مزاحمت کو ’مجرمانہ‘ فعل قرار دیا اور ان سے ایک بار پھر کہا کہ وہ ہتھیار پھینک دیں۔ ایاد علاوی نے کہا کہ عراق کی’ بہادر فوج‘ نے کبھی بھی مقدس مقامات کو نشانہ نہیں بنایا لیکن مقتدہ الصدر کی ملیشاء نے حضرت علی کے مزار پر قبضہ کر کے اس کو اپنا مرکز بنا رکھا ہے۔ کئی ہزار عراقیوں نے بصرہ کی سڑکوں پر ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا جس میں نجف پر امریکی حملوں کی مذمت کی گئی۔ بغداد کے مضافات میں شیعہ آبادی والے علاقے صدر سٹی میں بھی امریکہ مخالف مظاہرے ہوئے ہیں۔ بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے امور کے تجزیہ کار نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نجف پر امریکی حملے پر شیعہ آبادی میں پائے جانے والے غم و غصہ مقتدیٰ الصدر کی حمایت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ نجف پر امریکی ٹینکوں اور مشین گنوں کے حملے کی مزاحمت نے شدید ترین جنگ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقتدیٰ الصدر کے حامیوں پر اس حملے میں امریکی فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ مقتدٰی الصدر کے ایک ترجمان شیخ محمود السوڈانی نے کہا ہے کہ جیش مہدی نجف شہر کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اگر امریکی شہر میں داخل ہوئی تو اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا جب کہ امریکی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکی اور عراقی فوج نے مشترکہ تربیتی مشقیں شروع کی ہیں اور نجف پرایک بڑے حملے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ نجف میں جاری لڑائی کو ختم کیا جا سکے۔ عراق کے ایک نائب صدر ابراہیم جعفری نے امریکی فوج سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نجف سے پیچھے ہٹ جائے اور عراقی فوج کو نجف میں کارروائی کرنے دے۔ لیکن امریکی فوج جسے نجف کے گورنر نے بلایا تھا نے عراقی نائب صدر کی درخواست پر نجف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ پسپا ہونے کی بجائے پیش قدمی کی تیاری کر رہی ہے۔ امریکی فوج کے ترجمان نے کہا نجف کے گورنر عدنان الزورفی نے امریکی فوج کو حضرت علی کے روضے میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے کیونکہ مقتدی الصدر کی ملیشیا کے ارکان روضے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ مقتدی الصدر نے اپنے ماننے والوں سے کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ مارے یا پکڑے جائیں تب بھی لڑائی جاری رکھی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||