’وائٹ ہاؤس اورطالبان کی ذہنیت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
" ہم نجف میں اپنی فوجی کارروائی کے دوران اس بات کی پوری احتیاط کررہے ہیں کہ مسجد سے دور رہیں"۔ یہ امریکی فوج کے ترجمان جم رینی تھے اور حوالہ دے رہے مسجد امام علی کا۔ وہی مسجد جو دسویں صدی میں قائم کی گئ تھی لیکن جس کی موجودہ عمارت پندرھویں صدی کی ہے۔ نجف اشرف کے عین وسط میں قائم یہ مسجد دنیا بھر کے مسلمانوں کی نگاہوں کا مرکز ہے کہ کہیں ٹینکوں، دستی بموں، مورٹر گولوں اور ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی اس جنگ میں اسے کوی نقصان تو نہیں پہنچتا۔ مسلمانوں کی نگاہ میں مسجد کے اطراف میں لڑای بذات خود مسجد کی حرمت پر حملہ ہے۔ان کو امریکیوں پر کوی اعتبار نہیں ہے۔ مئی کے مہینے میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور امریکیوں میں جھڑپوں کے دوران مسجد کے گنبد کو نقصان پہنچا تھا۔ لبنان کے ایک صحافی ابراہیم موسوی کہتے ہیں کہ صدر بش میں اور افغانستان کے طالبان میں کوی فرق نہیں ہے۔ " وائٹ ہاؤس میں مقیم ذہنیت طالبان کی سی ذہنیت ہے۔ طالبان نے مہاتما بدھ کے مجسمے تباہ کردئے تھے۔ امریکہ جو جمہوریت اور تہذیب و تمدن کے راگ الاپ رہا ہے نجف میں مقامات مقدسہ کی بے حرمتی کررہا ہے، انہیں تباہ کررہا ہے۔ اربوں انسانوں کے تمدن، ان کے مذہب کی بے حرمتی کررہا ہے"۔ ابراہیم موسوی کہتے ہیں کہ مقتدیٰ الصدر کے مذہبی نظریات سے خواہ عرب متفق نہ ہوں لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایک قوت سے ٹکر لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق کے سیاسی اکھاڑے میں بہت سے رجحانات بہت سے عوامل ہیں۔ امریکہ کو چاہیے کہ ان سب عوامل کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کرے۔ ان کے ساتھ جنگ مول نہ لے۔ لیکن اس کے برخلاف امریکیوں کے ہاتھ میں جو پہلا ہتھیار لگا ہے یعنی تشدد اور طاقت کا ہتھیار اسی کو لے کے وہ ایسی بات کا قلع قمع کرنے کے لیے پِل پڑے ہیں جو میرے خیال میں جائز حقوق اور دعوؤں کی بات ہے۔ واشنگٹن کے پالیسی سازوں کی نگاہ میں مقتدیٰ الصدر دہشت گرد ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ عراق میں جمہوریت پنپ سکے۔ لیکن بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ پالیسی فائدے کی بجاۓ نقصان دہ ثابت ہوگی۔ برطانیہ میں بین الاقوامی امور کے رائل انسٹی ٹیوٹ میں مشرق وسطیٰ کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر روز میری ہالس کہتی ہیں اس صورت حال میں امریکہ کی کبھی جیت نہیں ہو سکتی۔ "امریکیوں کی جیت؟۔ کیسی جیت؟۔ فوجی کارروائی کے عمل میں جتنے زیادہ لوگ ہلاک ہوں گے، جتنے مقدس مقامات کی بے حرمتی ہوگی اتنے زیادہ لوگ امریکیوں سے دور ہونگے۔ اور عراقیوں میں سے کس کی جیت ہوگی؟۔ ممکن ہے کہ عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کی جو حملے پر زور دے رہے تھے۔ جو یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ چونکہ امریکی میرین فوج ان کے ساتھ ہے اس لۓ انہی کا حکم چلے گا"۔ روز میری ہالس کا کہنا ہے کہ نجف میں طاقت کی اس رسہ کشی کے نتیجے میں ممکن ہے کہ سنی اقلیت کو فائدہ پہنچاۓ۔ فلوجہ اور رمادی کی طرح کے شہروں میں سنیوں کے باغی گروہ فی الحال خاموشی اختیار کۓ ہوئے ہیں۔ وہ اس وقت کا انتظار کریں گے جب امریکی شیعہ اکثریت کی کمر توڑ دے، اور اس دوران خود بھی خوب بدنامی کمالے۔ اس کے بعد سنی ایک قوت کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||