عراق کے مقدس شہر نجف اشرف میں شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی دستوں اور امریکی افواج میں جھڑپیں بدستور جاری ہیں اور خدشہ ہے کہ وہاں موجود حضرت علی کے روضے سمیت اہم تاریخی مقامات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس بحران کے ذمہ دار مقتدیٰ الصدر ہیں یا امریکہ؟ اگر ان مقامات کو نقصان پہنچا تو کون اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بحران میں ایران کا بھی ہاتھ ہے آپ کیا کہتے ہیں؟ اور عراق میں جاری لڑائی کا کیا حل ہونا چاہیے؟ اپنی رائے ہمیں ارسال کیجیئے۔ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
ظفر خان، کراچی، پاکستان: امریکہ کو عراق سے نکل جانا چاہیے اور اقوام متحدہ کو وہاں کا انتظام سنبھال کر انتخابات کرانے چاہیں۔ وقار الحسن، بورے والا، پاکستان: کہاں گئے وہ لوگ جو کہتے تھے ’لوگوں کی حکومت، لوگوں کے لیے حکومت اور لوگوں کے ذریعے حکومت‘۔ نہ تو عراقیوں کی حکومت ہے اور نہ ہی ان کے لیے ہے ۔ بس ظلم ہی ظلم ہے۔ ایک ہی اصول ہے کہ طاقتور جو بھی کرے وہ صحیح ہے۔ امتیاز اندھیر، پاکستان: صدام کو گرفتار کرنے کے بعد امریکہ سمجھ رہا تھا کہ اب وہ آزادی کے ساتھ عراق سے اکیلے تیل نکالے گا لیکن مقتدیٰ الصدر کی مزاحمت نے ٹھہرے ہوئے سمندر میں پتھر پھینک دیا اور اس پتھر سے اٹھنے والی لہروں میں اتحادی فوجیں اب ڈوب کر مر رہی ہیں۔ شہزاد احمد، بارسلونا، سپین: اس تباہی اور قتل و غارت کا ذمہ دار صرف اور صرف امریکہ ہے۔ امریکی فوجیں عراق میں تباہی پھیلانے والے ہتھیار ڈھونڈنے آئے تھے جو کہ انہیں نہیں ملے۔ کیا وہ ہتھیار اب نجف میں چھپے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ کہ امریکہ صلیبی جنگ لڑ رہا ہے اور ہم مسلمان صرف دہشت گرد ہونے کے لیبل سے بچنے کے لیے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہے جس پر تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ فیصل ملک، پاکستان: میں اگر آپ کو بندوق دکھا کر بی بی سی پر قبضہ کر لیتا ہوں اور سب کو باہر نکال دیتا ہوں اور میرا قبضہ چھڑانے کے لیے آپ میرے ساتھ لڑتے ہیں تو اس بحران کا ذمہ دار کون ہوگا؟ دہشت گرد کون کہلائے گا؟ فیصل چانڈیو، حیدر آباد، پاکستان: کیسی اور کہاں کی عراقی حکومت؟ جو حکومت میں ہیں وہ امریکہ کے غلام ہیں۔ جب چاہیں گے وہ ہمارے خلیفہ کے در کو توڑ دیں گے۔ پر امریکہ یہ سن لے کہ جب دل جلتا ہے تو ہر چیز جلتی ہے۔ ناصر علی، مانچیسٹر، برطانیہ: امریکہ نے تیل کے لیے عراق کے مسلمانوں پر حملہ کیا اس لیے ساری ذمہ داری اسی کی ہے۔ مسلمان یہ قبضہ برداشت نہیں کریں گے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں اس کا شدید رد عمل ہوگا۔ محمد علی میمن، ٹنڈوآدم، پاکستان: نجف اشرف پر حملہ ہو یا عراق پر ناجائز تسلط امریکہ خود اپنی بربادی کو دعوت دے رہا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب تمام اقوام اسلام ایک ہو جائیں گی اور امریکہ بیچ میں اکیلا کھڑا ہوگا۔ حضرت علی کے روضے کا مسئلہ ہم اللہ پر چھوڑتے ہیں۔ اپنے مقبول بندے کے روضے کی وہ خود حفاظت کرے گا۔ محمد خاور، برطانیہ: نجف میں جس کا روضہ ہے وہ خود ہی نپٹ لے گا۔ امریکہ نہ اپنی تباہی کے دروازے کھول لیے ہیں۔  | تباہی کے دروازے  نجف میں جس کا روضہ ہے وہ خود ہی نپٹ لے گا۔ امریکہ نہ اپنی تباہی کے دروازے کھول لیے ہیں۔  محمد خاور، برطانیہ |
سید آغا عباس، ٹانک، پاکستان: اس کا ذمہ دار امریکہ ہے اور ایران کو صرف بدنام کیا جا رہا ہے۔ اور اس کا اصل ذمہ دار صدر بش ہیں جو عراق میں معصوم شہریوں کے خون کے پیاسے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ امریکہ کیا چاہتا ہے۔ کہاں گئے انسانی حقوق؟ کون اس مسئلے کو حل کرے گا؟ محمد فدا، کینیڈا: کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ نسل در نسل اپنے آپ کو فاتح سمجھنے والے امریکی اب تاریخ کی بد ترین شکست سے دوچار ہیں۔ کل کے پہلوان آج کے شکست خوردہ ہیں۔ شہریار خان، سنگاپور: اس بحران کے ذمہ دار مقتدیٰ الصدر ہیں۔ یہ لوگ اس وقت کہاں تھے جب عراق پر غیر ملکی افواج نے حملہ کیا تھا۔ الصدر نے اس مقدس جگہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس لڑائی کا ایک ہی حل ہے کہ وہاں سے غیر ملکی فوج جلد واپس چلی جائیں اور اقوام متحدہ کی امن فوج بلائی جائے۔ سرفراز احمد: ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ عبدالرحیم خان، ٹورونٹو، کینیڈا: اصل ذمہ داری امریکہ کی ہے اس لیے کہ اس جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے جیسا کہ دنیا کے رد عمل سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اب اگر مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچتا ہے تو ساری دنیا میں مسلمانوں کی مخلافت کا سامنا کرنا ہوگا۔ اے زیدی، امریکہ: مقتدیٰ الصدر اور ان کے ساتھیوں کو روضہ خالی کر کے کسی اور جگہ سے لڑائی لڑنی چاہیے۔ حضرت علی کا روضہ ان کی اور ان کی ملیشیا کی جائیداد نہیں ہے کہ جس کو اتحادی فوجوں کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا جائے۔ احمد سید، ٹورونٹو، کینیڈا: مسلمان معجزوں کے انتظار میں رہنے والی قوم ہے۔ اب بھی یہ اس انتظار میں ہے کہ حضرت علی کے روضے کی بے حرمتی کی صورت میں حضرت علی خود امریکہ سے بدلہ لیں گے۔ کیا ہم اس بدلے کا وسیلہ نہیں ہیں؟ قانون فطرت ہے ’ہر عروج کو زوال ہے‘۔ امریکہ اپنا عروج دیکھ چکا ہے۔  | یہ خاموشی کیوں  اگر حملوں میں حضرت علی کے روضے کو نقصان پہنچتا ہے تو ہماری خاموشی اس کی ذمہ دار ہوگی۔  حسین اے موجی، ابوظہبی |
حسین اے موجی، ابوظہبی، عرب امارات: ساری دنیا کے مسلمان خاموش کیوں ہیں؟ ہر روز ہر جگہ ہزاروں لوگ مار دیے جاتے ہیں کوئی بولتا کیوں نہیں؟ اگر حملوں میں حضرت علی کے روضے کو نقصان پہنچتا ہے تو ہماری خاموشی اس کی ذمہ دار ہوگی۔ امجد عباس قیصر، پاکستان: امریکی اور مغربی ممالک کی فوجوں کو نجف سے نکل جانا چاہیے کیونکہ حضرت علی کا روضہ تمام اسلامی دنیا کے لیے اہم ہے۔ نجف کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ جنگ اس کا حل نہیں ہے۔ سمیع الرحمان، اسلام آباد، پاکستان: امریکہ کی ساکھ ساری دنیا میں خراب ہو چکی ہے اس لیے امریکی فوجوں کو اب عراق سے واپس لوٹ جانا چاہیے اور عراقیوں کو خود اپنے مسائل حل کرنے کا موقع دیا جائے اور انہیں اپنی قیادت خود چننی چاہیے۔ مرتضیٰ ولائتی، کراچی، پاکستان: نجف میں جاری بحران کا ذمہ دار امریکہ ہے کیونکہ اس نے جارحیت کر کے عراق پر قبضہ کیا اور خون خرابے کی فضا پیدا کی۔ اگر امریکہ عراق کو آزادی دینے میں مخلص تھا تو اسے چاہیے تھا کہ صدام حسین کی حکومت ختم کر کے آزادانہ انتخابات کے لیے ملک چھوڑ دیتا۔ جہاں تک بحران میں ایران کے ہاتھ کا تعلق ہے تو عراقی حکومت کہہ چکی ہے کے اس میں ایران کو کوئی ہاتھ نہیں۔ اگر کوئی عہدے دار ایسی بات کرتا ہے تو وہ اس کا ذاتی خیال ہے۔عراق میں ہر مذاحمتی گروہ یہ کہہ رہا ہے کہ امریکہ عراق چھوڑ دے اور یہی واحد حل ہے اس بحران کا۔ غضنفر، پشاور، پاکستان: امریکہ کی عراق پالیسی اس بحران کی ذمہ دار ہے اس لیے امریکہ کو وہاں سے نکل جانا چاہیے۔  | صدام ذمہ دار  اس بحران کا نہ تو امریکہ ذمہ دار ہے، نہ ایران اور نہ ہی مقتدیٰ الصدر۔ اس کا ذمہ دار صدام حسین ہے  جاوید اقبال، چکوال | جاوید اقبال، چکوال، پاکستان: اس بحران کا نہ تو امریکہ ذمہ دار ہے، نہ ایران اور نہ ہی مقتدیٰ الصدر۔ اس کا ذمہ دار صدام حسین ہے جس نے پوری دنیا میں سے کسی کی بھی نہیں سنی اور اپنی بے گناہ عوام کو مروا دیا ہے۔ اگر وہ مخلص رہنما ہوتا تو عراقی عوام کو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ وہ تو ابھی بھی سکون میں ہے۔ تمام سہولتیں اسے میسر ہیں۔
راحیل جعفری، کراچی، پاکستان: شرم کی بات یہ کہ دنیا کی دوسری اسلامی ریاستیں ان حملوں پر کیوں خاموش ہیں۔ جب تک ہم اپنے اوپر سے بے غیرتی کا لیبل نہیں اتاریں گے امریکہ یوں ہی ہم پر مسلط رہے گا۔ حامد بخاری، پاکستان: اس کے ذمہ دار نہ امریکہ ہے اور نہ مقتدیٰ الصدر بلکہ پوری عراقی قوم اس بحران کی ذمہ دار ہے۔ عثمان معاویہ، امریکہ: اگر کسی کے گھر میں کوئی ذبردستی آکر قبصہ کر لے اور اسے گھر سے نکال دے تو کیا یہ صحیح ہے۔ امریکہ اس وقت کا یزید ہے جس نے عراق پر زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے۔ اگر مقتدیٰ الصدر اپنے گھر کو آزاد کرانے کے لیے لڑ رہے ہیں تو کیا یہ غلط ہے۔ میرے خیال میں بالکل ٹھیک ہے۔ حضرت علی کے روضے کو نقصان کی صورت میں امریکہ اس کا ذمہ دار ہوگا۔ ایک تو چوری اور اوپر سے سینہ زوری۔ ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان: اس کے ذمہ دار ان ملکوں کی فوجیں ہیں جو عراق میں ہیں، صدام اور کویت ہیں۔ اس میں ایران کا کوئی ہاتھ نہیں۔ یہ جنگ صرف اس طرح ختم ہو سکتی ہے کہ سب فوجیں عراق سے نکل جائیں اور عراق کو عراقیوں کے حوالے کر دیا جائے۔  | ایک اور ویت نام  امریکہ ایک اور ویت نام میں گھس آیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں جنگلوں میں مار کھائی تھی اب ریگستانوں میں مار کھا رہا ہے۔  محمد علی، ٹورنٹو، کینیڈا | محمد علی، ٹورونٹو، کینیڈا: امریکہ ایک اور ویت نام میں گھس آیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں جنگلوں میں مار کھائی تھی اب ریگستانوں میں مار کھا رہا ہے۔
شہزاد، اسلام آباد، پاکستان: میرے گھر پر اگر ڈاکو حملہ آور ہوں اور میری عزت، جان اور مال کو خطرہ ہو تو میں ان کے ساتھ تب تک لڑائی کروں گا جب تک انہیں گھر سے نکال نہیں لیتا۔ یہی صورتحال عراق میں ہے۔ تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کون ذمہ دار ہے۔ فراست علی، سکھر، پاکستان: نجف میں حالات کا صرف امریکہ ذمہ دار ہے۔ عراق پر قبضہ کرنے کی اصل وجہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے مگر وہ اسے نہیں ملے۔ امریکہ عراق اور ویت نام میں ہزاروں معصوموں کی موت کا ذمہ دار ہے اس لیے یہ اس صدی کا بڑا دہشت گرد ہے۔ حسن رضا، اسلام آباد، پاکستان: امریکہ کو اپنی فوج مروانے کا بہت شوق ہے۔ نجف ایک مقدس شہر ہے۔ اس کے وہاں جانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ عراقی حکومت تو امریکہ کی اجازت کے بغیر پانی بھی نہیں پی سکتی حکومت کیا کرے گی۔ امریکی ماؤں کو چاہیے کہ وہ فوج سے اپنے بیٹوں کو واپس بلا لیں اس لیے کہ وہ ایک فضول جنگ لڑ رہے ہیں۔ سید علی رضا، علی پور، پاکستان: حضرت علی کے روضہ پر حملہ امریکہ کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی تباہی کا وقت آگیا ہے۔ محمد نفیس، فیصل آباد، پاکستان: ’جو کچھ ہیں سب اپنے ہی ہاتھوں کے کرتوت ہیں‘ وقار حیدر، انٹاریو، کینیڈا: یہ مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے برا وقت ہے اور ہم سب مسلمان اس کے ذمہ دار ہیں۔ ظفر محمد، مانٹریال، کینیڈا: تاریخ گواہ ہے کہ اس سے پہلے بھی عالم اسلام کی تباہی میں مقتدیٰ الصدر جیسے لوگوں کی ذاتی انا اور خود پرستی ہی ذمہ دار تھی جس کا ایک نمونہ ہلاکو خان کے حملے کی شکل میں بغداد کی تباہی تھی۔ موجودہ دور میں صدام حسین کی جہالت نے امریکہ کو عراق کا راستہ دکھا دیا۔ لیکن اب مقتدیٰ نے ایک نہ جیتنے والی بے مصرف جنگ چھیڑ کر ہزاروں عراقیوں کو مروا دیا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ روضہ علی سمیت کئی مقدس مقامات کو خطرہ سے دو چار کر دیا ہے۔ آج کا دور دماغ کی جنگ کا دور ہے۔ امریکہ کے ساتھ سیاست کی لڑائی لڑنا ہی بہتر ہے۔
|