اتحادی فوج نجف سے نکل جائے: نائب صدر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی نائب صدر ابراہیم جعفری نے مطالبہ کیا ہے کہ اتحادی فوج نجف سے نکل جائے اور عراقی دستوں کو مزاحمت کاروں سے نپٹنے دے۔ عربی ٹی وی چینل الجزیرہ سے نشر ہونے والے ایک بیان میں عراقی نائب صدر نے کہا کہ صرف عراقی فوج کو نجف میں رہنے کا اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی فوج نجف کا انتظام بہ احسن خوبی چلا سکتی ہے اور تشدد کو ختم کر سکتی ہے۔ نجف پر امریکی فوج کا مسلسل حملوں کےساتویں روز امریکی فوج نے شہر پر حملوں کے لیے طیاروں کا استعمال کیا ہے۔ نجف اشرف میں امریکی فوج اور انقلاب پسند شیعہ ملیشیا کے درمیان یہ حملے رات میں کیے گئے۔ امریکی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک قدیم قبرستان سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے ہیں۔ انجمن ہلال احمر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر کے ہسپتال میں اب زخمیوں کے لیے مزید گنجائش نہیں رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حملے سے پہلے امریکی فوجیوں نے لاؤڈ سپیکروں پر عربی میں شہریوں کو متنبہ کیاتھا کہ محاذ کے نزدیکی علاقے خالی کردیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نجف کی صورتِ حال عراق کی نئی عبوری حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے اور بہت سی باتوں کا دارومدار اس پر ہے کہ وہ اس معاملے کو کیسے سنبھالتی ہے۔ ادھر دارالحکومت بغداد میں جہاں عبوری حکومت کےصدر دفاتر بھی ہیں شہر کے مختلف حصوں میں مارٹر گولوں اور راکٹوں کے استعمال کی اطلاعات ہیں۔ گزشتہ روز بغداد کے علاقے صدر سٹی میں جھڑپوں کے بعد سولہ گھنٹے کا کرفیو لگا دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||