BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 August, 2004, 14:54 GMT 19:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات ناکام، لڑائی کا امکان
نجف میں مقتدیٰ الصدر کے حامی
نجف میں مقتدیٰ الصدر کے حامی
عراق میں حکومت نے کہا کہ نجف میں امریکی فوج اور مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کہ درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے تین روز سے جاری مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔

حکومت کے قومی سلامتی کے مشیر موافق الربائی نے کہا وہ انتہائی افسوس کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ بحران کے خاتمے کی کوششیں ناکام ہو گئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جائے گی۔

شیعہ رہنما کے ترجمان نے مذاکرات کی ناکامی کے لیے عراق کے وزیر اعظم کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکی فوجیں نجف میں موجود ہیں عراق میں جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی۔

الجزیرہ ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ان کا قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ تمام معاملات پر اتفاق ہو گیا تھا لیکن وزیر اعظم ایاد علاوی نے انہیں واپس بلا لیا اور بات ختم ہو گئی۔

یہ مذاکرات نجف میں ایک ہفتے کی لڑائی کے بعد جنگ بندی کے دوران شروع ہوئے تھے اور قومی سلامتی کے مشیر کے بیان سے کچھ دیر قبل نجف کے گورنر نے کہا تھا کہ مذاکرات انتہائی نازک مرحلے پر ہیں۔

روس کے وزیر دفاع نے کہا کہ عراق کے معاملے پر بین الاقوامی کانفرنس ہونی چاہیے۔ وہ امریکی وزیر دفاع ڈانلڈ رمزفلڈ کے ساتھ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

دریں اثناء نجف کے گرد و نواح سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ مزاحمت کاروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نجف پہنچ گئے ہیں۔

مقتدیٰ الصدر نے جمعہ کے روز اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ فتح حاصل کریں گے یا موت تک لڑیں گے۔ وہ شہر سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء اور اپنے حمایتیوں کے لیے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سمارا میں ہوائی حملہ
سنیچر کو امریکی طیاروں نے سمارا شہر پر حملے کیے ہیں اور ہستپال کے ذرائع کے مطابق کم از کم تیرہ افراد ہلاک اور چوراسی زخمی ہو گئے ہیں۔

دو لاکھ کی آبادی والا شہر سمارا بغداد سے پچانوے کلومیٹر شمال میں ہے اور یہاں پر زیادہ تر لوگ امریکہ مخالف ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے شہر کے مرکزی ہسپتال میں متعین ڈاکٹر عبدالحامد السمارائی کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہاں آنے والے افراد میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

امریکی فوجی ذرائع کے مطابق انہوں نے آدھی رات کے بعد شروع ہونے والے حملوں میں پچاس مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی نے سمارا کے رہائشیوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ دو گھروں پر امریکی بم گرے ہیں۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے دو سو تیس کلوگرام وزن کے کئی بم شہر کے قریب ”دشمن کے ٹھکانوں پر گرائے ہیں”۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شہر میں کم از کم تینتالیس عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔

حلہ میں ہلاکتیں
عراقی حکومت کے ذرائع نے جمعہ کو بتایا تھا کہ شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے حمایتیوں کی طرف سے سرکاری عمارتوں پر قبضے کی کوشش کے بعد شروع ہونے والی جھڑپوں میں تیرہ سے لے کر پچاس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ہلاک و زخمی ہونے والوں میں مسلح افراد، پولیس اہلکار اور شہری شامل ہیں۔

پولینڈ کے فوجی محصور
حلے کے علاقے میں پولینڈ کے فوجی بھی ایک وقت میں مزاحمت کاروں کے گھیرے میں آگئے تھے۔ یہ فوجی عراقی پولیس کی مدد کے لیے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

پولیس کے سربراہ کے مطابق ہفتے کے روز بھی دو تھانے مزاحمت کاروں کے قبضے میں ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ وہ ان تھانوں پر قبضہ حاصل کر لیں گے۔

تیل کی ترسیل متاثر
مغربی خبر رساں ایجنسیوں نے عراق میں تیل کے محکمے کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک کے جنوب میں خراب حالات کے باعث تیل کی ایک اہم پائپ لائن کو بند کر دیا گیا ہے۔

ساؤتھ آئل کمپنی کے ایک اہلکار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ ”بصرہ میں صورتحال بہت خراب ہے”۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کی انتظامیہ نے جمعہ کو پائپ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کے ملازم کام پر نہیں آرہے تھے اور عام خیال یہ تھا کہ مقتدیٰ الصدر کے حمایتیوں سے جھگڑا سمجھداری نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد