نجف: تین امریکی فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نجف میں عارضی فائر بندی ختم ہو گئی ہے اور مقتدی الصدر اور امریکی اور عراقی فوجوں کے درمیان لڑائی میں تین امریکی ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو اس کے گیارہ میرین یونٹ کے تین ممبر نجف میں ’دشمن‘ کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراق کی وزارت داخلہ کے ترجمان صباح خادم نے بتایا کہ وہ شہر میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا وقت آ چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نجف شہر میں مقتدی الصدر کے حامی ملیشیا کے فیصلہ کن کارروائی کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔ عراق میں پولیس نے صحافیوں کو نجف شہر سے فوراً نکل جانے کا حکم دیا ہے جہاں امریکی اور عراقی فوج مقتدیٰ الصدر کی حامی مہدی ملیشیا کے ساتھ فیصلہ کن لڑائی کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو نجف شہر سے نکلنے کے حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی اور عراقی فوج مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور کے درمیان فائر بندی کا ختم ہو چکی ہے ۔ عراق میں پولیس کے ایک سینئر اہلکار نے کہ اب نجف شہر صحافیوں کے لیے بند ہو چکا ہے اور اگر کسی صحافی نے پولیس کے حکم پر کان نہ دھرے تو وہ گرفتار بھی ہو سکتا ہے۔ پولیس نے ایران ٹیلیوژن کے نامہ نگار محمد کاظم کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ ایک عمارت کی چھت سے نجف شہر میں ہونے والی لڑائی کا براہ راست حال سنا رہے تھے۔ عراق کی وزارت داخلہ کے ترجمان صباح خادم نے بتایا کہ وہ شہر میں مقتدی الصدر کے حامیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا وقت آ چکا ہے ۔ ادھر بغداد میں جاری قومی کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک وفد مقتدی الصدر کے پاس جاکر ان کو بغاوت کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرئے۔ قومی وفد جو مقتدی الصدر کو قومی سیاسی دھارے میں لانے کی کوشش کرئے گا اس کی قیادت مقتدی الصدر کے ایک رشتہ دار شیعہ عالم شیخ حسین صدر کریں گے۔ قومی وفد نے شیعہ رہنما مقتدی الصدر اور اس کی مہدی ملیشیا پر زور دیا ہے کہ وہ عسکریت کا راستہ ترک کر کے پرامن سیاست کریں اور اپنی اور الگ سیاسی جماعت بھی بنا سکتے ہیں۔ دریں اثناء آزادی صحافت کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’جرنلسٹ ود آوٹ فرنٹیر‘ نے عراق سے صحافیوں کو نکل جانے کے حکم پر تنقید کی ہے اورکہا ہے کہ عراق میں سینسرشپ کی کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ فرانس کے خبر رساں ادارے کے ایک نمائندے نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے نجف شہر سے لوگوں کونکلتے ہوئے دیکھا۔ اس نے مزید کہا کہ حضرت علی کے روضہ کے پاس ٹینک پہنچ چکے ہیں جہاں شیعہ رہنما مقتدی الصدر کے حامی محصور ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||